سرکاری اسکولوں کے صرف 12 فیصد طلبا کراچی کے بڑے کالجوں میں داخلہ لے سکے
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
کراچی کے سرکاری اسکولوں کے صرف 12 فیصد طلبا شہر کے 12 بڑے اور معروف سرکاری کالجوں میں داخلہ لے سکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق تعلیمی معیارات کے حوالے سے کراچی کے معتبر سمجھے جانے والے 12 بڑے اور معروف سرکاری کالجوں میں سرکاری اسکولوں کے صرف 12 فیصد طلبا داخلے لے سکیں ہیں جبکہ ان کالجوں میں باقی 88 فیصد داخلے شہر کے نجی اسکولوں سے میٹرک کرنے والے طلبا نے حاصل کیے ہیں کیونکہ ان کالجوں میں ترتیب دیے گئے میرٹ پر داخلہ حاصل کرنے والوں میں صرف12 فیصد ہی سرکاری اسکولوں کے طلبا پورا اتر سکیں ہیں۔
"ایکسپریس" کو اس حوالے سے ملنے والے اعداد و شمار دلچسپ اور حیرت انگیز ہیں جس کے مطابق کچھ بڑے سرکاری کالجوں میں تو انٹر سال اول(پری میڈیکل، پری انجینئرنگ اور سائنس جنرل) میں 5 سے 11 فیصد تک ہی سرکاری اسکولوں کے طلبا ہیں۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اساتذہ کی بھرتیوں اور خطیر بجٹ کے باوجود سرکاری اسکولوں کی کارکردگی اب تک سوالیہ نشان ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کراچی میں تدریسی اعتبار کے حوالے سے مستند سمجھے جانے والے آدمی جی گورنمنٹ سائنس کالج میں اس برس اگست 2025 میں داخلہ حاصل کرنے والوں میں سے صرف 4 فیصد طلبا کا تعلق سرکاری اسکولوں سے ہے اور 96 فیصد طلبا ایسے ہیں جنھوں نے نجی اسکولوں سے میٹرک پاس کیا ہے۔
کل 825 میں سے 33 طلبا سرکاری جبکہ 792 نجی اسکولوں سے یہاں آئے، سائنس فیکلٹی کا ایک اور مستند ادارہ ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج بھی چونکہ میرٹ میں اوپر ہے لہذا سرکاری اسکولوں کے طلبا کی تعداد یہاں بھی محدود ہے۔
اس کالج میں انٹر سال اول میں داخلہ لینے والے کل 1633 طلبا میں 1486 کا تعلق نجی اور صرف 147 کا تعلق سرکاری اسکولوں سے ہے، یعنی سرکاری اسکولوں کے صرف 9 فیصد طلبا یہاں داخلہ لے سکیں ہیں اسی طرح گورنمنٹ دہلی انٹر سائنس کالج کل 719 داخلوں میں سے 659 نجی اور 60 داخلے سرکاری اسکولوں کے طلبا کے ہیں۔
سرکاری اسکولوں کے طلبا کے داخلوں کی شرح 8.
مزید براں گورنمنٹ کالج برائے طالبات ناظم آباد میں کل 1841 داخلوں میں 1564 نجی اور 277 سرکاری اسکولوں کی طالبات ہیں سرکاری اسکولوں کی طالبات کی شرح داخلہ 15 فیصد ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سرکاری اسکولوں کے طلبا سرکاری اسکولوں کے صرف نجی اسکولوں کالجوں میں اسکولوں سے فیصد طلبا میں داخلہ
پڑھیں:
غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غذائی قلت غزہ فلسطین