سستی بجلی کی فراہمی کیلئے مسابقتی مارکیٹ قائم کرنے کا وقت آگیا: وزیر توانائی
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
ویب ڈیسک :وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ سستی بجلی کی فراہمی کیلئے مسابقتی مارکیٹ قائم کرنے کا وقت آگیا ہے۔
ٹی بی ایم ایم ورکشاپ سے ورچوئل خطاب میں وزیر توانائی اویس احمد لغاری نے کہا ہے کہ ہم بجلی کی پیداوار، تجارت اور ترسیل کو ایک نئے دور میں داخل کریں گے، جدید، شفاف اور مسابقتی بجلی کی مارکیٹ قائم کرنے کیلئے پرعزم ہیں تاکہ ہر پاکستانی کو سستی، قابل اعتماد اور پائیدار توانائی فراہم کی جا سکے۔
صدر زرداری کا دورہ؛ پاکستان اور چین کے درمیان 3 اہم شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
وزیر توانائی نے کہا کہ سی ٹی بی سی ایم عالمی تجربات کی روشنی میں تیارکردہ ایک نظام ہے، یہ نظام بجلی شعبے میں شفافیت، مسابقت کے فروغ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، یہ کوئی تجربہ نہیں ہے بلکہ برسوں سے تیار کردہ اصلاحاتی منصوبہ ہے جسے اب عملی جامہ پہنانے کا وقت آ گیا ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ ہمارا آکشن فریم ورک سی ٹی بی سی ایم کے نفاذ کا بنیادی ستون ہے، اس کے تحت 800 میگاواٹ وہیلنگ ڈیمانڈ مسابقتی عمل سے الاٹ کی جائے گی، خاص طور پر بڑے صنعتی صارفین اس وہیلنگ انتظام سے فائدہ اٹھا سکیں گے، صنعتی صارفین براہِ راست سپلائر سے مسابقتی نرخوں پر بجلی خرید سکیں گے۔
سرگودھا : الیکٹرک بس سروس کا آغاز، مریم نواز کا عوام کیلئے مفت سفری سہولت کا اعلان
وزیر توانائی نے کہا کہ سی ٹی بی سی ایم اور وہیلنگ آکشن سے صنعتوں کے اخراجات کم ہوں گے، قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو نظام میں شامل کرنے میں سہولت ملے گی، برآمدی شعبوں کو سستی اور ماحول دوست بجلی تک رسائی حاصل ہوگی، یہ اصلاح اوپر سے مسلط نہیں کی جا رہی بلکہ ایک شراکتی فریم ورک ہے، اصلاحات کے بغیر نااہلیاں برقرار رہیں گی، صارفین پر بوجھ بڑھتا رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔