اسلام آباد:

وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ سستی بجلی کی فراہمی کیلئے مسابقتی مارکیٹ قائم کرنے کا وقت آگیا ہے۔

ٹی بی ایم ایم ورکشاپ سے ورچوئل خطاب میں وزیر توانائی اویس احمد لغاری نے کہا ہے کہ ہم بجلی کی پیداوار، تجارت اور ترسیل کو ایک نئے دور میں داخل کریں گے، جدید، شفاف اور مسابقتی بجلی کی مارکیٹ قائم کرنے کیلئے پرعزم ہیں تاکہ ہر پاکستانی کو سستی، قابل اعتماد اور پائیدار توانائی فراہم کی جا سکے۔

وزیر توانائی نے کہا کہ سی ٹی بی سی ایم عالمی تجربات کی روشنی میں تیارکردہ ایک نظام ہے، یہ نظام بجلی شعبے میں شفافیت، مسابقت کے فروغ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، یہ کوئی تجربہ نہیں ہے بلکہ برسوں سے تیار کردہ اصلاحاتی منصوبہ ہے جسے اب عملی جامہ پہنانے کا وقت آ گیا ہے۔

اویس لغاری نے کہا کہ ہمارا آکشن فریم ورک سی ٹی بی سی ایم  کے نفاذ کا بنیادی ستون ہے، اس کے تحت 800 میگاواٹ وہیلنگ ڈیمانڈ مسابقتی عمل سے الاٹ کی جائے گی، خاص طور پر بڑے صنعتی صارفین اس وہیلنگ انتظام سے فائدہ اٹھا سکیں گے، صنعتی صارفین براہِ راست سپلائر سے مسابقتی نرخوں پر بجلی خرید سکیں گے۔

وزیر توانائی نے کہا کہ سی ٹی بی سی ایم اور وہیلنگ آکشن سے صنعتوں کے اخراجات کم ہوں گے، قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کو نظام میں شامل کرنے میں سہولت ملے گی، برآمدی شعبوں کو سستی اور ماحول دوست بجلی تک رسائی حاصل ہوگی، یہ اصلاح اوپر سے مسلط نہیں کی جا رہی بلکہ ایک شراکتی فریم ورک ہے، اصلاحات کے بغیر نااہلیاں برقرار رہیں گی، صارفین پر بوجھ بڑھتا رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وزیر توانائی بجلی کی نے کہا

پڑھیں:

وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔

وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔

مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا