کراچی، ایف سی ایریا کے مکینوں کا پانی و بجلی کی بندش پر شدید احتجاج، ٹریفک جام
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
کراچی:
کراچی کے علاقے ایف سی ایریا کے مکینوں نے پانی اور بجلی کی طویل بندش کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے ناظم آباد سے لیاقت آباد 10 نمبر جانے والی دونوں سڑکوں کو آمد و رفت کے لیے بند کر دیا، جس کے باعث شہر کے مصروف ترین علاقوں میں شدید ٹریفک جام ہوگیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ کئی روز سے علاقے میں نہ پانی دستیاب ہے نہ ہی بجلی، جبکہ متعلقہ ادارے مسلسل بے حسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے اعلان کیا کہ جب تک پانی اور بجلی کی فراہمی بحال نہیں کی جاتی، احتجاج ختم نہیں ہوگا۔
احتجاج کے باعث ناظم آباد سے سائٹ ایریا تک ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی جس سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
ذرائع کے مطابق چند گھنٹے قبل بھی اسی مقام پر احتجاج کیا گیا تھا جس کے بعد پولیس کی یقین دہانی پر مظاہرین منتشر ہو گئے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ پانی اور بجلی کی فراہمی جلد بحال کر دی جائے گی، تاہم وعدہ وفا نہ ہونے پر شہری دوبارہ سڑکوں پر نکل آئے۔
ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق متبادل انتظامات کیے جا رہے ہیں، حبیب بینک سے آنے والی ٹریفک کو بورڈ آفس جبکہ شاہراہ پاکستان سے آنے والی ٹریفک کو لیاقت آباد ڈاکخانہ کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔
ترجمان نے شہریوں سے گزارش کی ہے کہ وہ پریشانی سے بچنے کے لیے متبادل راستوں کا انتخاب کریں اور بلا ضرورت اس راستے سے گریز کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بجلی کی
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔