نیو کراچی: حکمران جماعت کے غنڈوں کا جماعت اسلامی کارکن حملہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) نیو کراچی ایک بار پھر خونریز سیاست کی نذر ہوگیا! سندھ کی حکمران جماعت کے غنڈہ عناصر نے دن دہاڑے جماعت اسلامی کے سرگرم کارکن شفیق احمد کو نشانہ بناتے ہوئے نہ صرف سرِعام اغوا کیا بلکہ یوسی آفس میں قید کرکے بدترین تشدد کا بازار گرم کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق سیکٹر 5D یوسی 4 میں بلدیاتی امور کی انجام دہی میں مصروف شفیق احمد پر نقاب پوش اور مسلح افراد نے اچانک دھاوا بولا۔ شہریوں کے سامنے ہی شفیق کو زبردستی گاڑی میں ڈال کر یوسی آفس منتقل کیا گیا جہاں دس سے زائد غنڈوں نے ڈنڈوں، لاتوں اور گھونسوں سے وحشیانہ تشدد کیا۔شفیق احمد کو شدید زخمی حالت میں پہلے متعلقہ تھانے اور بعدازاں طبی امداد کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹرز نے ان کی حالت تشویشناک قرار دیتے ہوئے فوری ایم ایل او رپورٹ تیار کی۔ اسپتال ذرائع کے مطابق تشدد اتنا سنگین تھا کہ زخمی کو طویل علاج درکار ہوگا۔واقعے کی رپورٹ بلال کالونی تھانے میں درج کرا دی گئی ہے لیکن حیران کن طور پر ملزمان تاحال آزاد گھوم رہے ہیں، جس نے عوام میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ علاقے کی فضا سخت کشیدہ ہے اور شہری کھلے عام سوال کر رہے ہیں کہ کیا کراچی ایک بار پھر غنڈہ راج کے حوالے ہو رہا ہے؟امیر جماعت اسلامی ضلع شمالی طارق مجتبی نے لرزہ خیز واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی کارکنان پر ریاستی سرپرستی میں غنڈوں کے حملے کھلی بدمعاشی ہیں، اگر ملزمان کو فوری گرفتار نہ کیا گیا تو جماعت اسلامی سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوگی۔ذرائع کے مطابق پولیس نے جائے وقوع سے عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کر کے شواہد حاصل کر لیے ہیں اور سرچ آپریشن کی تیاری کی جا رہی ہے۔ تاہم، سیاسی دباؤ کے باعث گرفتاریوں پر سوالیہ نشان برقرار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔