جماعت اسلامی کا کراچی میں غزہ چلڈرن مارچ، طلبہ و طالبات بڑی تعداد میں شریک
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
جماعت اسلامی نے شاہراہ قائدین پر غزہ چلڈرن مارچ منعقد کیا جس میں طلبا و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ طلبہ نے فلسطین کے جھنڈے اُٹھائے ہوئے تھے۔
اس موقع پر ایک نجی اسکول کی جانب سے فلسطینیوں کی مدد کیلئے حافظ نعیم الرحمٰن کو 30 لاکھ روپے کا چیک بھی دیا گیا۔
اپنے خطاب میں حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اپنی روش تبدیل کرے، امریکا منافق ہے، اسرائیل کے ساتھ امریکا کی بھی مذمت ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین میں صورت حال بدتر ہوتی جارہی ہے۔ اسرائیل کے خلاف اب عملی اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ فلسطین کے حوالے سے دو ریاستی حل کسی طور قبول نہیں۔ 7 اکتوبر کو بین الاقوامی سطح پر فلسطین سے اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جائے۔ 5 اکتوبر کو کراچی کی شاہراہ فیصل پر یہ دن منائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔