چارلی کرک کے قتل سے متعلق تبصرہ کرنے پر امریکی کامیڈین پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
معروف امریکی کامیڈین اور میزبان جمی کیمل کو لائیو شو میں چارلی کرک کے قتل سے متعلق بات کرنا مہنگا پڑگیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جمی کیمل کے شو پر حالیہ متنازع تبصرے کے بعد غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جمی کیمل نے اپنے شو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور قدامت پسند سماجی کارکن چارلی کرک کے قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا میں کچھ حلقے اس قتل کا الزام ایک بچے پر ڈال کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جمی کیمل نے مزید کہا کہ ٹرمپ کا چارلی کرک کے قتل پر ردعمل ایک سنجیدہ رہنما کا نہیں تھا بلکہ وہ ایسے برتاؤ کرتے دکھائی دیے جیسے کوئی بچہ اپنی پسندیدہ چیز نہ ملنے پر ناراض ہو۔
کامیڈین کی جانب سے ان تبصروں کو غیر ذمہ دارانہ اور حساس واقعے پر غیر سنجیدہ رویہ قرار دیتے ہوئے ٹی وی چینل نے فوری طور پر شو کی نشر و اشاعت روک دی۔
خیال رہے کہ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا اداروں پر تعصب پھیلانے کے الزامات کے تحت قانونی کارروائیوں کو وسیع کردیا۔ جمی کیمل کے شو پر پابندی نے امریکی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: چارلی کرک کے قتل جمی کیمل
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔