97 فیصد میڈیا میرے خلاف، لائسنسوں سے محروم کردینا چاہیے، امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی کے طور پر تجویز دی ہے کہ ان کے مخالف ٹی وی نیٹ ورکس کے لائسنس منسوخ کر دیے جانے چاہئیں۔ یہ بیان انہوں نے اے بی سی ٹی وی میزبان جمی کیمل کی معطلی کے تنازع کے تناظر میں دیا۔
واضح رہے کہ اے بی سی نے کیمل کو اس وقت شو سے ہٹا دیا جب انہوں نے ایک تقریر کے دوران قدامت پسند انفلوئنسر چارلی کرک کے قتل پر تبصرہ کرتے ہوئے مبینہ طور پر قاتل کو ٹرمپ کا حامی قرار دیا۔ واقعے کے بعد فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (FCC)، جس کی سربراہی ٹرمپ کے مقرر کردہ افسر برینڈن کار کر رہے ہیں، نے سخت کارروائی کی دھمکی دی۔
یہ بھی پڑھیے چارلی کرک پر متنازع تبصرے پر جمی کیمل شو معطل، ٹرمپ خوش ہوگئے
ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ میرے پڑھنے میں آیا ہے کہ 97 فیصد میڈیا میرے خلاف ہے۔ وہ صرف منفی کوریج دیتے ہیں۔ اگر یہ نیٹ ورکس لائسنس پر چل رہے ہیں، تو میرا خیال ہے شاید ان کا لائسنس لے لینا چاہیے۔
فیصلے کے بعد کئی حلقوں میں آزادیٔ اظہار پر قدغن کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت میڈیا پر دباؤ ڈال کر تنقید روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ’کینسل کلچر کو خطرناک سطح‘ پر پہنچا دیا ہے۔
کامیڈین جون اسٹیورٹ نے طنزیہ طور پر ٹرمپ کو ’ڈیئر لیڈر‘ کہہ کر آزاد میڈیا کی بندش پر تنقید کی۔
یہ بھی پڑھیے ’بات نہیں مانی تو گرفتار کرلوں گا‘، ٹرمپ کی دھمکی پر ظہران ممدانی پھٹ پڑے
نوبل انعام یافتہ ماریا ریسا نے کہا کہ ’امریکا میں جو ہو رہا ہے وہ فلپائن کی تاریخ کی یاد دلاتا ہے، اگر آپ نے آزادی کا دفاع نہ کیا تو اسے کھونا آسان اور واپس پانا مشکل ہے۔‘
اداکار بین اسٹلر اور جین اسمارٹ نے بھی اس فیصلے پر سخت ردعمل دیا۔
دوسری جانب بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ کیمل نے ’غلط اور اشتعال انگیز‘ تبصرے کیے تھے، اس لیے پابندی کو مناسب قرار دیا جا سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جمی کیمل ڈونلڈ ٹرمپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جمی کیمل ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز