لندن:

برطانوی بادشاہت کی شان میں منعقدہ ریاستی ضیافت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لندن کے میئر صادق خان کو شرکت کی اجازت نہ دینے کا برملا اعتراف کر لیا۔

ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے لندن کے میئر صادق خان پر شدید تنقید کی اور کہا کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ وہاں ہوں اسی لیے میرے کہنے پر ان کا دعوت نامہ منسوخ کیا گیا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں نے کہا تھا کہ وہ شامل نہ ہوں، کیونکہ وہ نہایت ہی بدترین میئر ہیں، انہوں نے کہا کہ لندن کے میئر خان دنیا کے بدترین میئروں میں سے ہیں اور ہمارے پاس بھی کچھ برے میئر ہیں۔

صدر ٹرمپ نے لندن میں بڑھتے ہوئے جرائم کی نشاندہی کرتے ہوئے صادق خان کو امیگریشن پر تباہ کن قرار دیا اور کہا کہ میں نے انہیں کبھی پسند نہیں کیا۔

دوسری جانب، ونڈزر کاسل میں دی گئی شاندار ریاستی ضیافت میں دنیا کے نامور شخصیات شریک تھیں جن میں میڈیا ٹائیکون روپرت مرڈوک، لیبر پارٹی کے سربراہ سر کیر اسٹارمر، ایپل کے سی ای او ٹم کک، کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کمی بیڈنوچ اور اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹ مین شامل تھے۔

ضیافت میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ اعزاز میرے لیے زندگی کی بلند ترین اعزازات میں سے ایک ہے کہ میں پہلا امریکی صدر ہوں جسے یہاں اتنی عزت دی گئی۔

صدر ٹرمپ نے بادشاہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا برطانوی بادشاہ کی مثال صبر، عظمت اور برطانوی عوام کی روح کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے ضیافت میں کہا کہ کہ میں

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟