جسٹس طارق محمود جہانگیری کام سے روکے جانے کے بعد آج سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ اُن کے ہمراہ 25 مارچ 2024 کو خفیہ اداروں کی مداخلت بارے خط لکھنے والے دیگر 5 میں سے 4 ججز بھی تھے۔
16 ستمبر کو جب اُنہیں کام سے روکا گیا تو وکلا کی بڑی تعداد نے اس کے خلاف احتجاج اور جزوی عدالتی بائیکاٹ بھی کیا لیکن یہ احتجاج بھی 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف وکلا کے احتجاج کی طرح نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا۔

اِسلام آباد ہائیکورٹ میں آج 3 ججوں جسٹس بابر ستّار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے مقدمات کی کاز لسٹ بھی منسوخ کر دی گئی تھی اور مذکورہ جج سماعت کے لیے میّسر نہیں تھے کیونکہ وہ تینوں جسٹس طارق محمود جہانگیری کے ساتھ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے سپریم کورٹ گئے ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں: الیکشن ٹریبونل: جسٹس طارق محمود جہانگیری کی تبدیلی سے متعلق الیکشن کمیشن کا حکم کالعدم قرار

آج ہی کے روز ایک وکیل محمد وقاص ملک کی جانب سے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھی دائر کر دیا گیا۔

مذکورہ بالا واقعات اِسلام آباد ہائیکورٹ کے منصفین کے درمیان دھڑے بندی گہری کشمکش اور ناراضی کا پتا دیتے ہیں، جس کی وجہ سے انصاف کا نظام تاخیر کا شکار ہے۔

اس کشمکش اور ناراضی کا ایک سرا تو 6 ججز کا خط جبکہ دوسرا سرا موجودہ چیف جسٹس، جسٹس سرفراز ڈوگر کی لاہور ہائیکورٹ سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں منتقلی ہے۔

اِسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس سرفراز ڈوگر کی لاہور ہائیکورٹ سے اِسلام آباد ہائیکورٹ تقرری کے بعد اس سال یکم فروری کو شروع ہونے والا تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔

مزید پڑھیں: جسٹس طارق محمود جہانگیری سے منسوب تمام سوشل میڈیا پوسٹس جعلی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

19 جون کو سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سینیارٹی سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے صدر مملکت کو اختیار دیا جس کی رو سے صدرِ مملکت نے جسٹس سرفراز ڈوگر کو سینیارٹی لسٹ میں پہلے نمبر پر رکھتے ہوئے انہیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں مستقل تعیّنات بھی کیا۔

پھر یکم جولائی کو جسٹس سرفراز ڈوگر نے بطور چیف جسٹس اپنے عہدے کا حلف بھی لے لیا، لیکن اِسلام آباد ہائیکورٹ میں ججوں کے درمیان سنیارٹی کو لے کر ہونے والی کشمکش نہ تھم سکی۔

اعلیٰ عدلیہ کا سب سے بڑا ادارہ سپریم کورٹ بھی کافی عرصہ ججوں کے درمیان شدید اختلافات کا شکار رہا لیکن اب 26ویں ترمیم کے ایک سال بعد گرد بیٹھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن وہیں ملک کی ایک اور بڑی عدالت یعنی اِسلام آباد ہائیکورٹ ایک خلفشار کا شکار نظر آتی ہے، جہاں ججز دھڑے بندی کا شکار نظر آتے ہیں۔

16 ستمبر کو اِسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کو کام سے روک دیا گیا۔ اِسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے میاں داؤد ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس جہانگیری کو سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے تک کام سے روکنے کا حکم جاری کیا۔

مزید پڑھیں: جعلی ڈگری کیس: جسٹس جہانگیری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

اِسلام آباد ہائیکورٹ کیوں اہم ہے؟

سپریم کورٹ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ہے اور اُس کے بعد یوں تو ملک کی پانچوں ہائیکورٹس اپنے اختیارات اور مرتبے کے لحاظ سے ایک جیسی اہم ہیں لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ وفاقی دارالحکومت کی عدالت ہونے کی وجہ سے وہ تمام بڑے بڑے مقدمات سماعت کرتی ہے جن کا تعلق وفاق یا وفاقی وزارتوں سے ہوتا ہے۔

اِسلام آباد ہائیکورٹ 2010 سے اب تک کئی تاریخ ساز اور لینڈ مارک ججمنٹس دے چُکی ہے اور ملک کے بڑے بڑے سیاسی رہنما وہ صدر آصف زرداری ہوں، عمران خان، نواز شریف یا مریم نواز وہ اس عدالت میں مقدمات کا سامنا بھی کر چکے ہیں اور یہاں سے ریلیف بھی لے چُکے ہیں۔ لیکن 6 ججز کے خط کے بعد سے یہ عدالت اندرونی خلفشار کا شکار نظر آتی ہے۔

ججز کے درمیان کشمکش کی وجہ سے عدالتی کام متاثر ہو رہا ہے، اویس یوسفزئی

اسلام آباد ہائیکورٹ کور کرنے والے جیونیوز کے سینیئر صحافی اویس یوسفزئی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ججوں کے درمیان دھڑے بندی سے درخواست گزاروں کے مقدمات تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے اختیارات کے خلاف جسٹس محسن اختر کیانی کی آئینی درخواست

ان کا کہنا تھا کہ عام لوگوں کے مقدمات ایک سماعت کے بعد اڑھائی سے 3 مہینے اور بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ وقت کے بعد سماعت کے لئے مقرر ہوتے ہیں۔ لوگ اپنے مقدمات کی تاریخ کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں اور تاریخ والے دن جب کسی کو پتا چلے کہ کازلسٹ منسوخ ہو گئی ججز صاحب نہیں آئے تو عام لوگ ایسی صورتِحال سے بہت متاثر ہوتے ہیں۔

اویس یوسفزئی نے کہا کہ اُصولی طور پر جب 19 جون کو سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی سنیارٹی سے متعلق درخواست کا فیصلہ کردیا تھا تو دوسرے دھڑے کو یہ فیصلہ دل سے تسلیم کر لینا چاہیئے تھا کیونکہ عدالتیں تو خود یہ کہتی ہیں کہ کوئی بھی فیصلہ ایک فریق کے حق اور دوسرے کے خلاف آتا ہے اور عدالتی فیصلے کو تسلیم کیا جانا چاہیئے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ججوں کے دونوں گروپس لچک دکھانے کو تیار محسوس نہیں ہوتے۔ آج جب جسٹس طارق محمود جہانگیری درخواست دائر کرنے سپریم کورٹ پہنچے تو اُن کے ساتھ وہاں پہنچنے والے جسٹس سردار اعجاز اسحاق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کی کاز لسٹ کینسل کر دی گئی۔ لیکن جسٹس محسن اختر کیانی اپنے سارے مقدمات سننے کے بعد سپریم کورٹ پہنچے جو لائقِ تحسین اقدام تھا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے تک جسٹس طارق جہانگیری کو عدالتی کام سے روک دیا

ججوں کے درمیان کشمکش کے مختلف واقعات بتاتے ہوئے اویس یوسفزئی نے بتایا کہ اس سال مارچ میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان پی ٹی آئی کی سینیٹر مشعال یوسفزئی سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کر رہے تھے اور پھر وہ مقدمہ اُن کی کاز لسٹ سے ہٹا دیا گیا۔

جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے گو کہ اُس کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی بھی کیا لیکن معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔ اسی طرح سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی میں جب مذکورہ جج نے کابینہ اور وزیراعظم کو توہین عدالت کا نوٹس کیا تو وہ نوٹس پہنچایا ہی نہیں گیا اور کہا گیا کہ جسٹس سرادار اعجاز اسحاق خان روسٹر کے بغیر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کو ایک 2 رکنی ڈویژن بینچ میں بٹھا دیا گیا اور کہا گیا کہ آپ ٹیکس میٹرز سنیں۔ ان 2 جج صاحبان کو سنگل بنیچ نہیں دیا گیا۔ دوسری طرف سینئر پیونے جج جسٹس محسن اختر کیانی کو ڈویژن بینچ سے ہٹا کر سنگل بینچ دے دیا گیا۔
تو جہاں ایک طرف اختلافِ رائے رکھنے والے پانچ ججز ہیں وہیں دوسری طرف سے بھی لچک نہیں دکھائی جا رہی۔ ابھی حال ہی میں فُل کورٹ اجلاس میں پانچ ججوں نے رولز پر اپنا اختلاف کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا ایک اور فیصلہ، سینیارٹی تبدیل کرنے کے خلاف 5 ججوں کی ریپریزنٹیشن مسترد

انصاف دینے والے خود درخواست گزار بن جائیں تو انصاف کیا دیں گے: اسد ملک

ڈان اخبار سے وابستہ سینیئر صحافی اور کورٹ رپورٹر اسد ملک نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب جسٹس اطہر من اللہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ گئے اور جسٹس عامر فاروق چیف جسٹس بنے تو ججز کے درمیان تقسیم کا آغاز اُسی وقت ہو گیا تھا۔ اُس وقت ٹیریان وائٹ کیس میں اختلافی فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کر دیا گیا تھا۔

اسد ملک نے کہا کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ 4 ججز ایک طرف اور 6 دوسری طرف ہیں اور اِس ماحول سے کچھ وکلا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ دونوں اطراف کے حمایتی وکلا جب اپنے اپنے دھڑے کے ججز کے سامنے پیش ہوتے ہیں تو توقع رکھتے ہیں کہ اُن کو ریلیف دیا جائے گا۔

دھڑے بندی کی یہی صورتحال ماتحت عدلیہ میں بھی موجود ہے۔ آج بھی جج صاحبان اپنے مقدمات منسوخ کرکے چلے گئے۔ ججوں کی کشمکش میں درخواست گزار رُل رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس طارق محمود جہانگیری.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ جسٹس طارق محمود جہانگیری جسٹس طارق محمود جہانگیری ا سلام ا باد ہائیکورٹ کے سلام ا باد ہائیکورٹ میں اسلام ا باد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر ججوں کے درمیان اویس یوسفزئی سپریم کورٹ مزید پڑھیں دھڑے بندی کے مقدمات اور جسٹس کورٹ میں چیف جسٹس کے خلاف دیا گیا کورٹ کے کا شکار کے بعد ججز کے ملک کی کام سے کہا کہ لیکن ا

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟