آرمی ایکٹ کے تحت دادرسی نہیں توپھر کوئی کہاں جائے؟جسٹس منصور
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250920-08-7
اسلام آباد(صباح نیوز)سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئرترین جج جسٹس سید منصورعلی شاہ نے کہا ہے کہ ائرپورٹ سیکورٹی فورس ( اے ایس ایف )کیسے آرمی ایکٹ کے تحت آتی ہے۔ اپیل کاحق توختم نہیں ہوسکتا۔ آرمی ایکٹ کے تحت دادرسی نہیں توپھر کہاں جائے، بڑی دلچسپ بات ہے۔ جبکہ جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی ہے تواس کووہاں دیکھیں اگر باہر جاکرکس کوقتل کرے گاتواس کی باہر ایف آئی آر کٹے گی اور عام عدالت میں ٹرائل ہوگا۔ اگرآرمی اہلکار قتل کرے گا توپاکستان پینل کوڈ(پی پی سی)کی دفعہ302کے تحت ایف آرہوگی، اگر بری ہوگاتوپھر کاروائی کاجوازنہیں۔ قتل کیس میں آرمی تونہیں آئے گی۔ جبکہ بینچ نے آئینی بینچ کے پاس کیس بھجوانے یا نہ بھجوانے کے حوالہ سے فیصلہ کے لیے معاملہ تین رکنی بینچ کوبھجواتے ہوئے مزید سماعت 15روز کے بعد تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا رمی ایکٹ کے تحت
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔