بھارتی حکومت کا سکھ یاتریوں کو روکنے کا اقدام انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
لاہور:
پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی (پی ایس جی پی سی) نے بھارتی حکومت کی جانب سے سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے سے روکنے کے اقدام کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
پی ایس جی پی سی کی یہ قرارداد لاہور میں متروکہ وقف املاک بورڈ کے ہیڈ آفس میں نویں اجلاس میں پردھان سردار رمیش سنگھ اروڑہ کی زیر صدارت منظور کی گئی، اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بھارت اپنے ہی شہریوں کو ننکانہ صاحب، کرتارپور اور پنجہ صاحب جیسے مقدس مقامات پر حاضری سے محروم کر کے دنیا بھر کے سکھوں کے جذبات مجروح کر رہا ہے۔
سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین سکھ برادری کے لیے مکہ و مدینہ کی حیثیت رکھتی ہے، پاکستان نے ہمیشہ دنیا بھر کے یاتریوں کو خوش آمدید کہا ہے اور برطانیہ، کینیڈا اور امریکا سمیت کئی ممالک کے لیے آن لائن ویزا کی سہولت بھی فراہم کی ہے تاکہ یاتری باآسانی پاکستان آ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے حالیہ فیصلے نے بابا گرو نانک دیو جی کے جنم دن کی تقریبات پر بھی سکھ برادری کو اپنے مذہبی حق سے محروم کیا ہے۔
سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے پر پوری قوم کو مبارک باد بھی دی۔
چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ ڈاکٹر ساجد محمود چوہان نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ پر یقین رکھتا ہے اور گوردواروں کی دیکھ بھال کو اولین ترجیح دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب کے باوجود کرتارپور سمیت تمام گوردوارے 24 گھنٹے کے اندر دوبارہ یاتریوں کے لیے کھول دیے گئے۔
ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق نے کہا کہ پاکستان آنے والے یاتریوں کو مکمل مذہبی آزادی فراہم کی جاتی ہے اور وہ ہمیشہ محبت اور امن کا پیغام لے کر واپس جاتے ہیں۔
اجلاس میں شریک اراکین نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ بھارت کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں سے روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
اجلاس میں جنرل سیکریٹری ستونت کور، نائب پردھان سردار مہیش سنگھ، ڈاکٹر سردار ممپال سنگھ، سردار تارا سنگھ، سردار گیان سنگھ، سردار ستونت سنگھ، سردار حمیت سنگھ، سردار صاحب سنگھ اور سردار بھگت سنگھ بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یاتریوں کو اجلاس میں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز