درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کا جاری کردہ نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیا جائے اور شہریوں کو آئین کے تحت حاصل مذہبی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کررکھی ہے کہ پابندی کے اس نوٹیفیکیشن کے جواز پر تفصیلی جواب جمع کرایا جائے۔ کیس کی مزید سماعت 25 ستمبر کو ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور ہائیکورٹ نے مشی واک پر پابندی کیخلاف دائر درخواست 25 ستمبر کو سماعت کیلئے مقرر کر دی۔ جسٹس احمد ندیم ارشد، المصطفی لائرز فورم کی جانب سے دائر پٹیشن پر سماعت کریں گے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کررکھا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو اپنے عقائد کے مطابق مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے مشی واک پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا، جو غیرقانونی اور بنیادی انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مشی واک ایک مذہبی روایت ہے اور اس پر پابندی آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کے اصولوں کی نفی ہے۔ اس نوٹیفیکیشن کے ذریعے شہریوں کو اپنے مذہبی عقائد پر عمل کرنے سے روکا جا رہا ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کا جاری کردہ نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیا جائے اور شہریوں کو آئین کے تحت حاصل مذہبی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کررکھی ہے کہ پابندی کے اس نوٹیفیکیشن کے جواز پر تفصیلی جواب جمع کرایا جائے۔ کیس کی مزید سماعت 25 ستمبر کو ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پر پابندی

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی