کراچی جنوبی کی کنزیومر کورٹ میں مقامی ہوٹل میں قمیض شلوار پہن کر آنے والوں پر پابندی کے کیس میں درخواست قابلِ سماعت ہونے پر فریقین کے وکلاء نے دلائل مکمل کر لیے۔

عدالت کے مطابق درخواست قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ 2 اکتوبر کو سنایا جائے گا۔

دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں اپنے مؤقف اپنایا کہ ہوٹل مالک کے وکیل کے اعتراضات بے بنیاد ہیں، جب ٹرائل شروع ہو گا تو تمام شواہد پیش کریں گے، سروس دینے سے انکار کی شکایت کنزیومر ایکٹ کے تحت سنی جاسکتی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہوٹل انتظامیہ نے کہا کہ ہم قمیص شلوار والے گاہک کو سروس نہیں دے سکتے۔

درخواست گزار کے وکیل نے اپنے مؤقف میں مزید کہا کہ لیگل نوٹس کی وصولی کی رسید اور کوریئر سروس کا میسج میرے پاس موجود ہے۔

اس پر ہوٹل کے مالک کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہمیں لیگل نوٹس وصول نہیں ہوا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کے وکیل

پڑھیں:

دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس  ہوا جس دوران  دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ  ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔

کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔

وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات

مزید :

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی