—تصویر بشکریہ سوشل میڈیا

محکمہ جنگلی حیات خیبر پختون خوا  نے بطخوں اور دیگر آبی پرندوں کے شکار پر پابندی عائد کردی ہے۔

محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخوا نے 26-2025ء واٹر فاول ہنٹنگ سیزن کےلیے57 مقامات پر پرندوں کے شکار پر پابندی لگا دی ہے۔

آبی پرندوں کےشکار پر پابندی کا اطلاق 31 دسمبر 2025ء تک ہوگا۔

سندھ کابینہ نے ایک سال کے لیے پرندوں کے شکار پر پابندی عائد کردی

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ یہ پرندے معصوم ہیں اور سیلاب میں کافی مر گئے ہیں۔

بشقر جھیل، دریائےسوات اور دیگر مقامات پر پرندوں کا شکار نہیں کیا جائے گا۔

صوبائی محکمے کی جانب سے بتایا گیا کہ آبی پرندوں کے شکار پر پابندی کا مقصد حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ہے۔

غیرقانونی طور پرآبی پرندوں کا شکار کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔

لائسنس کے حامل افراد کو  آبی پرندوں کے شکار کی اجازت ہوگی۔

لائسنس رکھنے والوں کو روز 5 بطخوں اور آبی پرندوں سے زیادہ کے شکار کی اجازت نہیں ہوگی۔

پرندوں کی آبادی کی نگرانی محکمہ جنگلی حیات کا اسٹاف کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پرندوں کے شکار پر پابندی آبی پرندوں کے شکار محکمہ جنگلی حیات

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مختلف علاقوں میں بارشیں ہی بارشیں؛محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کردی
  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی