خیبر پختونخوا میں شکار پر پابندی، نئے قواعد و ضوابط جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
ویب ڈیسک :خیبر پختونخوا حکومت نے ڈیمز، جھیلوں، تالابوں اور بیراجوں میں شکار پر پابندی عائد کرتے ہوئے نئے قواعد و ضوابط نافذ کر دیے ہیں۔
محکمہ جنگلی حیات خیبرپختونخوا نے اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ 31 دسمبر تک ممنوع مقامات پر شکار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق صوبے کے 57 ڈیمز، جھیلوں اور دریاؤں کے علاقوں کو شکار کیلئے بند کر دیا گیا ہے، شکار کی اجازت صرف مخصوص مقامات پر ہو گی۔
پاکستان نے کامن ویلتھ بیچ ہینڈ بال چیمپئن شپ میں سری لنکا کو شکست دیدی
اعلامیہ کے مطابق ایک شکاری کو دن میں صرف 5 آبی پرندوں کے شکار کی اجازت ہو گی، بطخ کے شکار کیلئے شکاری کتے کی لائسنس فیس 1500 روپے سالانہ مقرر کی گئی ہے۔
خصوصی ڈک ہنٹنگ بندوق کی فیس 500 روپے یومیہ مقرر کی گئی ہے، سورج نکلنے سے قبل اور غروب آفتاب کے بعد شکار پر پابندی ہو گی، شکار کے دوران الیکٹرانک آلات اور کال برڈز کے استعمال پر بھی پابندی عائد ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔