علیمہ خان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ڈیجیٹلی بلاک، وارنٹ گرفتاری دوبارہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
علیمہ خان 26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت سے مسلسل غیرحاضر ہیں ۔ انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے ۔ علیمہ خان کا قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ڈیجیٹلی بلاک کرکے گاڑی کی سپرداری حاصل کرنے والے ضامن کو جیل بھجوا دیا گیا۔
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کےباوجود اےٹی سی جج امجد علی شاہ کی عدالت میں پیش نہیں ہوئیں ۔ عدالت نےملزمہ کے بلاضمانت وارنٹ گرفتاری دوبارہ جاری کر دیئے۔ علیمہ خان کا قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ڈیجیٹلی بلاک کرنے کی رپورٹس عدالت میں جمع کردیا گیا۔ بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کی رپورٹ پیش نہیں کی گئی ۔
عدالت نے اسٹیٹ بینک حکام سے دوبارہ رپورٹ طلب کر لی ۔ عدالت نےپولیس کو علیمہ خان اور سپرداری پر گاڑیاں حاصل کرنے والے 4 ضامنوں کی منقولہ جائیداد تلاش کر کے ضبط کرنے کا بھی حکم دیدیا ۔ گاڑی کی سپرداری دینے والے ایک ضامن عارف خان عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ان کے پاس رقم یا پراپرٹی موجود نہیں ۔
عدالت نے ضامن عارف خان کو گرفتار کروا کے جیل بھجوا دیا۔ سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہان عدالت میں پیش ہوئے ۔ تاہم ملزمان اور وکلا صفائی کی غیرحاضری کے باعث شہادت قلمبند نہ ہو سکی۔ کیس کی مزید سماعت 3 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وارنٹ گرفتاری علیمہ خان عدالت میں
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔