این ڈی ایم اے کی پیشگوئی: موسمِ سرما میں معمول سے کم بارشوں کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
این ڈی ایم اے نے موسم سرما میں معمول سے کم بارشوں کی پیشگوئی کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق این ڈی ایم اے میں ملک میں موسم سرما میں ارلی وارننگ سسٹم پر بریفنگ کا انعقاد کیا گیا۔ ٹیکنیکل ہیڈ ارلی وارننگ طیب شاہ نے بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ این ڈی ایم اے کی جانب سے سال میں 4 ارلی وارننگز جاری ہوتی ہیں۔ طیب شاہ نے آئندہ چار ماہ کے موسم سے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں معمول سے کم بارشیں متوقع ہیں۔ بارشوں کا زیادہ زور ملک کے شمالی علاقہ جات کی جانب ہو گا۔ ماہ نومبر میں سردی کی شدت میں زیادہ اضافہ متوقع نہیں۔ ٹیکنیکل ہیڈ ارلی وارننگ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور جنوبی ایشیا میں خشک موسم متوقع ہے۔ نومبر کے آخر سے جنوری تک خشک ہواؤں کے باعث سردی میں اضافہ ہوگا۔ ملک کے شمالی علاقہ جات میں آنیوالے 3 ماہ میں سردی کی شدت بڑھے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں اس دوران ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔ پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے کچھ علاقوں میں معمول سے کافی کم بارشوں کی پیشگوئی ہے۔ بلوچستان اور گلگت بلتستان میں ماہ نومبر میں موسم زیادہ خشک رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ڈی ایم اے میں معمول سے
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔