صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار سے جھڑپ، ایمان مزاری، ان کے شوہر اور وکلا کیخلاف مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
پولیس نے اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن (آئی ایچ سی بی اے) کے صدر کے ساتھ جھڑپ کے بعد حکومت مخالف مؤقف رکھنے والی انسانی حقوق کی کارکن ایڈووکیٹ ایمان مزاری حاضر ، ان کے شوہر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے وابستہ متعدد وکلا کے خلاف دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بار قیادت نے الزام عائد کیا کہ وکلاء کے ایک گروپ نے اس کے صدر پر حملہ کیا، انہیں ہراساں کیا اور ریاستی اداروں کے خلاف نعرے لگائے۔
فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) ایمان مزاری، ہادی علی چٹھہ، زینب جنجوعہ، پی ٹی آئی سے وابستہ وکلا نعیم پنجوتھا، فتح اللہ بَرکی اور دیگر کے خلاف پاکستان پینل کوڈ اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت درج کی گئی۔
وکلا نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عدالتی کام سے معطل کرنے کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں مظاہرہ کیا تھا۔
مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے اور عدلیہ کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے، اسلام آباد بار کونسل کے رکن علیم عباسی، سابق صدر آئی ایچ سی بی اے ریاست علی اور ایڈووکیٹ ایمان مزاری ان نمایاں وکلا میں شامل تھے جنہوں نے ریلی میں شرکت کی۔
تاہم مظاہرے کے بعد کشیدگی اس وقت بڑھی جب پی ٹی آئی سے وابستہ وکلا، جن میں انتظار حسین پنجوتھا، نعیم پنجوتھا اور فتح اللہ برکی شامل تھے، آئی ایچ سی بی اے کے صدر واجد علی گیلانی کے سامنے آگئے، عینی شاہدین کے مطابق پی ٹی آئی وکلا نے واجد علی گیلانی کو دھکا دیا جس سے جھگڑا ہوا، تاہم آئی ایچ سی بی اے کے سیکریٹری منظور احمد جاجا اور دیگر وکلا نے بیچ بچاؤ کرایا۔
بعد ازاں آئی ایچ سی بی اے کے صدر واجد علی گیلانی، سیکریٹری اور بار کونسل کے نائب چیئرمین نصیر احمد کیانی کے ہمراہ واقعے کی مذمت کی اور اعلان کیا کہ بار کونسل کو ریفرنس بھیج کر ملزم وکلا کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے اور ان کے لائسنس منسوخ کرنے کی سفارش کی جائے گی۔
واجد علی گیلانی نے الزام لگایا کہ وکلا کے ایک گروہ، جس میں ایمان مزاری اور زینب جنجوعہ بھی شامل تھیں، نے ان پر جسمانی حملہ کیا، انہیں گھسیٹا اور غدار قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ مسلح تھے اور انہوں نے دباؤ ڈالا کہ وہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے خلاف مقدمات درج کرنے کے مطالبے کی حمایت کریں، جس سے انہوں نے انکار کیا، ہمارا کوئی ذاتی یا سیاسی ایجنڈا نہیں، ہم نہ کسی جماعت کے ساتھ ہیں نہ کسی جج کے ساتھ، ہمارا کردار وکلا کی خدمت کرنا ہے، اور میری پریس کانفرنس کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔
سیکریٹری بار منظور احمد جاجا جاجا نے دعویٰ کیا کہ احتجاج بغیر باضابطہ درخواست کے کیا گیا تھا، جو بار کے قواعد کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ دہشت گردی کا مقدمہ ان کے خلاف آگے بڑھایا جائے گا اور ان کے لائسنس کی منسوخی کے لیے باضابطہ درخواست دی جائے گی۔ ہم کسی جج کے کارندے نہیں، اور جو لوگ ایسا بنے ہوئے ہیں انہیں بے نقاب کیا جائے گا۔
نائب چیئرمین نصیر کیانی نے خبردار کیا کہ جسٹس جہانگیری کے کیس کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے، انہوں نے اعلان کیا کہ جو وکلا اس حملے میں ملوث ہیں انہیں آئی ایچ سی میں داخلے سے روکا جائے گا اور باضابطہ شکایات موصول ہونے پر ان کے لائسنس معطل کر دیے جائیں گے۔
آئی ایچ سی بی اے کی قیادت نے آئین اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ وہ کسی دباؤ یا دھمکی کے آگے نہیں جھکیں گے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ئی ایچ سی بی اے واجد علی گیلانی ایمان مزاری اسلام ا باد پی ٹی ا ئی انہوں نے کے خلاف اور ان کیا کہ کے صدر
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔