سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور سینئر سفارت کار سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ پاک سعودی اسٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدے کے بعد بھارت کے لیے پاکستان پر فوجی مہم جوئی کرنا انتہائی دشوار ہو گیا ہے اور اگر بھارت نے کوئی حماقت کی تو اسے دو ملکوں کی اجتماعی طاقت سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔

سردار مسعود خان نے مختلف ٹی وی چینلز کو دیے گئے انٹرویوز میں بتایا کہ اس سال مئی میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر جو بلا جواز جنگ مسلط کی گئی تھی اس کا پاکستان نے دندان شکن جواب دیا اور اس معرکے میں پاک فوج نے اپنی برتری ثابت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاک سعودی دفاعی معاہدے کے بعد بھارت کو مستقبل میں کسی قسم کی جارحیت سے پہلے ہزار بار سوچنا ہوگا کیونکہ سعودی عرب کی بھارت میں وسیع سرمایہ کاری ہے اور 35 لاکھ بھارتی شہری سعودی عرب میں بسلسلہ روزگار مقیم ہیں۔

پاکستان نے کامن ویلتھ بیچ ہینڈ بال چیمپئن شپ میں سری لنکا کو شکست دیدی

 آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کی مشرقی سرحدوں کو عسکری اعتبار سے مضبوط کرے گا اور پاکستان کی اسٹرٹیجک رسائی میں اضافہ کے ساتھ ساتھ دفاعی ٹیکنالوجی اور دفاعی پیداوار کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے معیشت کو بھی تقویت ملے گی ۔ بھارت کے ممکنہ ردعمل پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت پہلے ہی مختلف محاذوں پر ناکامیوں کا شکار رہا ہے۔ جنگ میں عسکری شکست، سفارتی پسپائی، بیانیہ کے میدان میں ناکامی نے بھارت کو سفارتی ویرانی میں دھکیل دیا۔  اس پس منظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات نے بھارت کی پوزیشن مزید کمزور اور پاکستان کو مضبوط کردیا۔

دہلی یونیوسٹی کا سٹوڈنٹ یونین الیکشن؛ آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم کا قبضہ ہو گیا

 سردار مسعود خان نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی جانب سے جو بیانیہ بنایا گیا تھا اسے عالمی برادری نے مسترد کر دیا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹرٹیجیک باہمی معائدے سے اسرائیل کے گریٹر اسرائیل بنانے کے منصوبے میں بھی رکاوٹ پیدا ہوگی تو انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے وسیع تر اسرائیل (گریٹر اسرائیل) کا جو نقشہ جاری کیا تھا اس میں سعودی عرب کا نصف حصہ بھی شامل تھا، اس کے علاوہ اسرائیل شام کے حصے بخرے کرنا چاہتا ہے، لبنان کے مشرقی اور جنوبی پہاڑوں میں آباد دروز اور دوسری اقلیتوں کے لیے راہداری بنانے کا ارادہ رکھتا ہے، گولان کی پہاڑیاں شام کو واپس کرنے سے انکاری ہے اور اب غزہ پر قبضہ کرنے میں مصروف ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے یہ بھی کہا تھا کہ فلسطینی عرب ہیں اسلئے وہ اسرائیل (فلسطین) چھوڑ کر مصر، لیبیا، سعودی عرب یا کہیں اور جاکر آباد ہو جائیں تاکہ پم خالص صہیونی ریاست کے قیام کا خواب پورا کرسکیں اور یوں اس پس منظر میں پاک سعودیہ دفاعی اتحاد بروقت ہے۔

دارالحکومت میں 12 قسم  کی سرگرمیوں پر پابندی، دفعہ 144 میں دو ماہ کی توسیع

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ مسلمان دنیا میں دو ارب کے قریب ہیں، ستاون ممالک پر مشتمل ان کی اسلامی تعاون تنظیم ہے، عرب لیگ میں 22 اسلامی ممالک شامل ہیں، خلیج تعاون کونسل ہے جس میں دنیا کے امیر ترین ملک شامل ہیں لیکن ان کے پاس کوئی اجتماعی دفاعی نظام نہیں ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بار بار فخر سے بتاتا ہے کہ اسرائیل کی سرحدیں کہاں سے شروع ہوکر کہاں ختم ہونگی۔ ان حالات میں مسلمانوں کے دو کلیدی ممالک سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان اس معاہدے سے مسلمانوں کا حوصلہ بڑھا کیونکہ ایک عرصے سے مسلمان بدترین اسلاموفوبیا کا شکار تھے اور ایسے ممالک جہاں وہ اقلیت میں تھے وہاں ان کا عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا تھا۔ ان حالات میں اس معائدے سے کم از کم مسلمان شہری تو بہت خوش ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا جس طرح بھارت کی طرف سے پاکستان پر حملے کے بعد بھارت کی جنگی صلاحیت کا بھرم پوری دنیا کے سامنے کھل گیا، اسی طرح اسرائیل کے قطر پر حملے نے مسلمان ممالک کو متحد کردیا۔

پاک سعودی ڈیفینس معاہدہ دونوں ملکوں کیلئے مثبت ہے؛ بلاول بھٹو

سردار مسعود خان نے کہا کہ قطر پر اسرائیل کے حملے نے امریکہ کی طرف سے خلیجی ریاستوں کی سلامتی اور دفاع کی ضمانت کا تصور پاش پاش ہوگیا۔ تمام خلیجی ریاستوں کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ ان کے پاس دفاع اور اپنی سلامتی کی چھتری موجود نہیں اور اب انہیں اپنے دفاع کے لئے خود کوئی انتظام کرنا گا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ معائدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہے ہے لیکن یہ ایک اعتبار سے بلواسطہ طور پر تمام خلیجی ریاستوں کے ساتھ بھی ہے کیونکہ عرب ممالک عام طور پر اس قسم کے فیصلے اتفاق رائے سے کرتے ہیں۔ اسلئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قطر پر اسرائیلی حملہ پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ کا فوری موجب بنا لیکن یہ مسلمانوں کے اجتماعی دفاع کی جانب ایک قدم ہے جس کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ ہم مغرب کے خلاف لڑنے جا رہے ہیں۔ مغرب میں جو خطرے کی گھنٹیاں بجائی جا رہی ہیں وہ بلاجواز ہیں۔

لاہور میں بونداباندی شروع

 آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر نے کہا کہ سعودی عرب مغربی ممالک سے قربت رکھتا تھا اور مغربی ممالک کے زیر اثر ہے لیکن اس نے اپنے مفاد میں ایک آزادانہ فیصلہ کیا، اسی طرح پاکستان کے بھی امریکہ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور ہم چاہیں گے کہ یہ تعلقات مذید مضبوط ہوں لیکن پاکستان نے اپنے مفاد میں ایک آزادانہ فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ گیم نہایت ذہانت کے ساتھ کھیلنی ہوگی اور جس طرح ممتاز چینی رہنما ڈینگ ژیاؤ پِنگ نے کہا تھا‘اپنی طاقت چھپاؤ اور وقت کا انتظار کرو'   اب سعودی عرب اور پاکستان کے لئے وقت آگیا ہے کہ وہ اپنی اجتماعی صلاحیت کو بڑھائیں اور اپنے ساتھ دوسرے ممالک کو شامل کریں۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا آنے والے دنوں میں مذید ممالک اس معاہدے میں شامل ہوں گے۔

 سردار مسعود خان نے کہا کہ ترکی اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات ہیں، قطر اور سعودی عربیہ کا زاویہ نگاہ بھی ایک دوسرے سے مختلف یے اسی طرح مصر اور سعودی عرب کے درمیان بھی روایتی طور پر کوئی قربت نہیں رہی۔ اب مصر اور ترکی بھی قطر کی صف میں کھڑے ہوگئے کیونکہ وہ بھی غزہ میں جنگ بندی کے لئے ثالث کے طور پر کام کر رہے تھے، اسلئے وہ بھی اسرائیل کے نشانے پر ہیں کیونکہ اسرائیلی وزیراعظم کہتا ہے کہ جہاں اور جس ملک میں حماس کے نمائندے ہوں گے وہاں حملہ کریں گے۔ اسلئے ہماری یہ رائے ہے اسلامی ممالک خاص طور پر خلیجی ممالک شعور کی پختگی کا ثبوت دیں اور اپنے باہمی اختلافات ختم کرکے کسی اجتماعی دفاعی اتحاد کا حصہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مغربی ممالک اپنے اجتماعی دفاع کے لئے نیٹو بنا سکتے ہیں تو مسلمان ممالک ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سردار مسعود خان نے کہا کہ اور سعودی عرب کے درمیان انہوں نے کہا کہ اجتماعی دفاع کے بعد بھارت اور پاکستان اسرائیل کے پاکستان پر پاک سعودی بھارت کی کے ساتھ کے لئے

پڑھیں:

آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اہم سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے انتخابی اتحاد اور مختلف حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، چیف الیکشن کمشنر کا واضح پیغام

یہ اتفاق رائے استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان ملاقات کے دوران ہوا۔

ملاقات میں آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال، آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اور دونوں جماعتوں کے درمیان انتخابی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی جبکہ انتخابات کے بعد بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید پڑھیے: تنویر الیاس کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی شدید مذمت

ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد مختلف حلقوں میں امیدواروں کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق حتمی اعلان کرے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس اتحاد کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے انتخابی میدان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں آئندہ حکومت استحکام پاکستان پارٹی کی ہوگی، تنویر الیاس کا دعویٰ

ملاقات کے موقع پر سابق معاون خصوصی سردار امتیاز شاہین، مسلم کانفرنس یوتھ ونگ کے چیئرمین سردار عثمان عتیق، کھائیگلہ پونچھ سے مسلم کانفرنس کے نامزد امیدوار ڈاکٹر عرفان اشرف، سابق امیدوار اسمبلی سردار منظور ایڈووکیٹ، سابق ڈی جی ہیلتھ سردار محمود خان، پولیٹیکل ایڈوائزر سردار افتخار رشید، ممبر میونسپل کارپوریشن باغ سردار شجاع منگول ایڈووکیٹ، سابق پولیٹیکل سیکرٹری سردار شبریز صابر، پیر عبدالقادر، سردار عفان عتیق، راجہ عبدالجبار اور اسٹاف آفیسر سردار حفیظ خان بھی موجود تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر تنویر الیاس اور سرادر عتیق احمد کی ملاقات سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم