Jasarat News:
2026-06-03@04:42:31 GMT

امریکا، برطانیہ: عالمی سیاست کا رخ متعین کرتی ملاقات

اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی حالیہ ملاقات نے بین الاقوامی تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔ یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کی علامت ہے بلکہ موجودہ عالمی بحرانوں کے تناظر میں بڑی طاقتوں کے درمیان ہم آہنگی کی اشد ضرورت کو بھی واضح کرتا ہے۔ دفاعی و ترویراتی شراکت داری کے معاہدوں کو دیکھتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ امریکا اور برطانیہ اپنی باہمی تجارت و صنعت کو نئی جہتوں سے آراستہ کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی پروسپرٹی ڈیل (TPD) میں شامل کوانٹم کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور ایٹمی توانائی جیسے حساس شعبے اس بات کا اظہار ہیں کہ مستقبل کی معیشت اور سلامتی انہی عناصر پر استوار ہوگی۔ برطانیہ کی دفاعی خریداری میں 80 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری اور امریکا میں برطانوی کمپنیوں کے 30 بلین ڈالر کے منصوبے صرف معاشی تعاون نہیں بلکہ اسٹرٹیجک اعتماد کی علامت بھی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدے صرف برطانیہ اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یورپی منڈیوں اور ناٹو کے دفاعی ڈھانچے پر بھی ان کے اثرات مرتب ہوں گے۔

عالمی تنازعات پر دونوں رہنماؤں کے بیانات بظاہر امن و استحکام کی خواہش کی عکاسی کرتے ہیں، مگر عملی صورتحال اس سے مختلف ہے۔ یوکرین میں جنگ کے طول پکڑنے سے یہ واضح ہے کہ مغربی طاقتیں درپردہ عسکری دباؤ کو ترجیح دیتی ہیں، حالانکہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے متعدد حلقے اس پرامن تصفیے کے لیے مذاکراتی راہ ہموار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ اسی طرح غزہ میں انسانی بحران پر امریکا اور برطانیہ کی محدود سفارت کاری نے عالمی سطح پر ان کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی تنظیموں نے بھی بارہا اس بات پر زور دیا کہ محض ’’تحمل کی اپیل‘‘ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے ناکافی ہے۔ اس تناظر میں دونوں ممالک کی پالیسیوں کو دوہرے معیار کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ چا بہار بندرگاہ کے مسئلے پر ایران پر پابندیوں کی تجدید نے خطے میں طاقت کے توازن کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بھارتی ماہرین معیشت کے مطابق اس اقدام سے بھارت کی وسطی ایشیا اور یورپ سے تجارتی روابط متاثر ہوں گے۔ پاکستان اور چین کے لیے یہ صورتحال ایک موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ گوادر پورٹ اور سی پیک کے منصوبوں کو زیادہ پرکشش اور فعال بنا کر خطے میں اپنی اقتصادی پوزیشن مستحکم کریں۔ ماہرین کے نزدیک خطے کی جغرافیائی سیاست اب دو دھڑوں میں بٹتی جا رہی ہے، جہاں ایک طرف امریکا اور اس کے اتحادی ہیں جبکہ دوسری طرف چین، روس اور ایران جیسے ممالک ایک نئے تجارتی و عسکری بلاک کی تشکیل میں مصروف ہیں۔

برطانیہ کے اندرونی حالات بھی اس ملاقات کے پس منظر میں اہمیت رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ برطانوی عوام کا ایک بڑا طبقہ امریکی پالیسیوں سے ناخوش ہے۔ امیگریشن، موسمیاتی تبدیلی اور اسرائیل نواز رویہ ایسے نکات ہیں جن پر عوامی دباؤ اسٹارمر حکومت کو محتاط رویہ اپنانے پر مجبور کر سکتا ہے۔ ایپسٹین اسکینڈل جیسے پرانے تنازعات کا دوبارہ موضوع بحث بننا اس ملاقات کے تاثر کو مزید متنازع بنا گیا ہے۔ مستقبل کے امکانات کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ امریکا برطانیہ کی بڑھتی ہوئی قربت عالمی فورمز جیسے ناٹو، جی 7 اور جی 20 میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔ یہ اتحاد چین کی بڑھتی ہوئی معیشت اور روس کے عسکری دباؤ کے مقابلے میں ایک مضبوط مغربی بلاک کے طور پر سامنے آئے گا۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا یہ بلاک حقیقی طور پر عالمی امن، انصاف اور پائیدار ترقی کے تقاضوں کو پورا کرے گا یا محض طاقت کے توازن کی روایتی کشمکش کو مزید شدت دے گا۔

یوں ٹرمپ اور اسٹارمر کی ملاقات بظاہر سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کی گئی ہے، لیکن اصل امتحان اس وقت ہوگا جب یہ معاہدے زمینی حقائق میں ڈھلیں گے۔ اگر امریکا اور برطانیہ عالمی برادری میں اپنی ساکھ کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں یوکرین، غزہ اور دیگر تنازعات میں غیر جانب دارانہ اور عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ بصورت دیگر یہ ملاقات ایک عارضی مظاہرہ ہی ثابت ہوگی، جو تاریخ کے اوراق میں محض ایک رسمی صفحہ بن کر رہ جائے گی۔ لہٰذا ٹرمپ اور کیئر اسٹارمر کی ملاقات محض دو طاقتور ممالک کی رسمی گفت و شنید نہیں بلکہ اس نے عالمی سیاست کی نئی ترجیحات کو بھی اجاگر کیا ہے۔ معاشی تعاون، دفاعی شراکت داری اور ٹیکنالوجی کے میدان میں معاہدے اگر اپنی عملی صورت اختیار کر جائیں تو یہ عالمی معیشت اور سیکورٹی پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔ لیکن اگر یہ معاہدے صرف بیانات اور اعداد وشمار تک محدود رہیں تو ان کی حیثیت وقتی سیاسی مظاہرے سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی۔ یوکرین، غزہ اور مشرق وسطیٰ جیسے بحرانوں میں امریکا اور برطانیہ کا رویہ اصل پیمانہ ہوگا جس سے دنیا فیصلہ کرے گی کہ آیا یہ شراکت عالمی امن کے لیے ہے یا صرف طاقت کے توازن اور معاشی مفادات کے لیے۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ بڑی طاقتوں کے فیصلے صرف اپنے مفادات تک محدود رہیں تو ان کے نتائج دیرپا نہیں ہوتے۔ اگر ٹرمپ اور اسٹارمر واقعی ایک نئے باب کا آغاز کرنا چاہتے ہیں تو انہیں طاقت کی سیاست سے آگے بڑھ کر انصاف، انسانیت اور عالمی امن کو اپنی پالیسیوں کا مرکز بنانا ہوگا، ورنہ یہ ملاقات بھی ماضی کی سفارتی تقریبات کی طرح تاریخ کے ہنگامہ خیز دھارے میں گم ہو جائے گی۔

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکا اور برطانیہ ٹرمپ اور ہیں تو کے لیے اور اس

پڑھیں:

میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب

دنیا کے سب سے مقبول کھیل فٹبال کا سب سے بڑا ایونٹ، فیفا ورلڈ کپ 2026، 12 جون سے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں شروع ہو رہا ہے۔ اس بار ٹورنامنٹ کئی حوالوں سے تاریخ ساز ثابت ہونے جا رہا ہے، کیونکہ پہلی مرتبہ 48 قومی ٹیمیں عالمی اعزاز کے حصول کے لیے میدان میں اتریں گی جبکہ مجموعی طور پر 1248 کھلاڑی اس عظیم مقابلے کا حصہ ہوں گے۔

1248 players. 48 nations. Locked in. ????

The Official Squad Lists for #FIFAWorldCup 2026 are here ⤵️

— FIFA World Cup (@FIFAWorldCup) June 2, 2026

فیفا کی جانب سے تمام 48 ٹیموں کے حتمی اسکواڈز کی منظوری کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ورلڈ کپ 2026 کھلاڑیوں، ٹیموں اور میچوں کی تعداد کے اعتبار سے تاریخ کا سب سے بڑا فٹبال ٹورنامنٹ ہوگا۔ ایونٹ میں شریک ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں چار چار ٹیمیں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے، جو سابقہ ورلڈ کپ ایڈیشنز کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ: امریکا نے ایرانی فٹبال ٹیم کو قیام کی اجازت نہیں دی، ٹیم میکسیکو میں رہے گی

میڈیا رپورٹس کے مطابق 1248 کھلاڑیوں میں سے 357 ایسے ہیں جو پہلے بھی ورلڈ کپ کھیل چکے ہیں، جبکہ 891 کھلاڑی پہلی مرتبہ اس عالمی اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ ماہرین کے مطابق نئے اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا یہ امتزاج ٹورنامنٹ کو مزید دلچسپ اور غیر متوقع بنا سکتا ہے۔

World Cup is exactly TWO weeks away. ???? #FIFA pic.twitter.com/NFDxw8uKlO

— World Cup 2026 (@WorldCupMedia) May 28, 2026

بین الاقوامی میڈیا نے ورلڈ کپ 2026 کو ’فٹبال کی تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ جامع عالمی مقابلہ‘ قرار دیا ہے۔ عالمی نشریاتی اداروں کا کہنا ہے کہ ٹیموں کی تعداد میں اضافے سے نہ صرف مقابلہ زیادہ سخت ہوگا بلکہ دنیا کے نئے خطوں اور ابھرتی ہوئی فٹبال قوموں کو بھی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملے گا۔

اس ورلڈ کپ کی ایک اور نمایاں خصوصیت عالمی فٹبال کے دو عظیم ترین ستاروں، لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو، کی ممکنہ تاریخی شرکت ہے۔ دونوں کھلاڑی اپنے چھٹے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔ میکسیکو کے تجربہ کار گول کیپر گیلرمو اوچوا بھی چھٹی مرتبہ ورلڈ کپ کھیلنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہیں، جو عالمی فٹبال میں ایک منفرد ریکارڈ تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا

ورلڈ کپ 2026 کئی نئی قومی ٹیموں کے لیے بھی یادگار ثابت ہوگا۔ کیپ ورڈے، کوراساؤ، اردن اور ازبکستان پہلی بار فیفا ورلڈ کپ کے فائنل مرحلے میں پہنچے ہیں۔ ان ٹیموں کی شمولیت کو فٹبال کی عالمی توسیع اور کھیل کے بڑھتے ہوئے دائرہ اثر کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

عمر کے اعتبار سے بھی اس بار ٹورنامنٹ منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ایونٹ میں شامل سب سے کم عمر کھلاڑی کی عمر صرف 17 برس ہے جبکہ سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی 43 سال کے ہیں۔ ٹورنامنٹ میں 7 ایسے کھلاڑی شریک ہیں جن کی عمر 40 برس سے زیادہ ہے، جبکہ 22 کھلاڑی 20 سال سے کم عمر ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار نوجوان ٹیلنٹ اور تجربے کے دلچسپ امتزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔

The 2026 FIFA World Cup ???? ⚽ is making its triumphant return to North America, sparking huge excitement across the continent for the world's biggest football tournament, which kicks off on June 11 in Mexico.

Here's your quick guide ????https://t.co/li1RCedN1h

— TRT World (@trtworld) June 1, 2026

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی نہ صرف شمالی امریکا میں فٹبال کی مقبولیت کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی کھیل کی تجارتی اور ثقافتی اہمیت میں اضافہ کرے گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ٹورنامنٹ ناظرین، آمدنی اور ڈیجیٹل رسائی کے کئی نئے ریکارڈ قائم کرے گا۔

فٹبال شائقین کی نظریں اب 12 جون پر مرکوز ہیں، جب دنیا بھر کی 48 بہترین ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے اپنی مہم کا آغاز کریں گی اور تاریخ کے سب سے بڑے فیفا ورلڈ کپ کا باقاعدہ افتتاح ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رونالڈو فٹبال ورلڈ کپ 2026 فیفا ورلڈ کپ میسی

متعلقہ مضامین

  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار