بھنگ پینے والی حاملہ خواتین کو کیا طبی مسائل درپیش ہوسکتے ہیں؟ ماہرین نے انتباہ جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
امریکی کالج آف اوبسٹیٹریشینز اینڈ گائناکالوجسٹس نے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حاملہ خواتین کو بھنگ (کینابِس) کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے اور ڈاکٹروں کو چاہیے کہ وہ مریضوں سے حمل سے پہلے، دورانِ حمل اور بعد از حمل بھنگ کے استعمال کے بارے میں لازمی سوال کریں۔
یہ سفارشات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب امریکا میں بھنگ کے استعمال میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو اس کی بڑھتی ہوئی قانونی حیثیت اور سماجی قبولیت کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ ’بھنگ‘ کو کم خطرناک دوا قرار دینے کا سوچ رہے ہیں، اسٹاکس میں تیزی
امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن ڈرگ ابیوز کے مطابق 2019 میں 4 لاکھ 50 ہزار سے زائد خواتین پر کی گئی ایک تحقیق میں سامنے آیا کہ 2002 سے 2017 کے درمیان حاملہ خواتین میں بھنگ کے استعمال کی شرح دوگنی ہو گئی۔
ماہرین کے مطابق بھنگ میں موجود نشہ آور جزو ٹی ایچ سی بچے تک پہنچ سکتا ہے اور دودھ میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ جنین میں 5 ہفتوں کی عمر میں ہی کینابینوئڈ ریسپٹرز پائے جا سکتے ہیں جس سے قبل از وقت نمائش کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق دورانِ حمل بھنگ کے استعمال سے بچے کا وزن کم ہونے، نوزائیدہ کی انتہائی نگہداشت یونٹ میں داخلے، پیدائش کے وقت اموات اور طویل مدتی مسائل جیسے توجہ کی کمی اور سیکھنے میں مشکلات کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: قلات میں کئی ایکٹر پر محیط بھنگ کی فصل تباہ کر دی گئی
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بھنگ کے استعمال پر مکمل اعداد و شمار اب بھی محدود ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کو بھنگ سے متعلق سوال غیر جانبدارانہ اور محتاط انداز میں کرنا چاہیے تاکہ مریضوں میں خوف نہ پیدا ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ادویات بھنگ حملہ خاتون.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ادویات حملہ خاتون بھنگ کے استعمال
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن