پاکستان سنٹرل ایشیا کا گیٹ وے ہے، ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدوں سے اخراجات میں کمی ہو گی: جام کمال خان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان سنٹرل ایشیا کا گیٹ وے ہے، ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدوں سے تجارتی اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی اور خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
وہ اسلام آباد میں 7 آسیان ممالک کے سفرا سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے۔ ملاقات میں پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان تجارتی، سرمایہ کاری اور عوامی روابط بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ملائیشیا، فلپائن، تھائی لینڈ، برونائی، ویتنام اور میانمار کے سفرا شریک ہوئے۔ وزیر تجارت نے آسیان ممالک کو ٹیکنالوجی، ہنر اور انفراسٹرکچر میں شراکت داری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آسیان کمپنیوں کے لیے سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز سرمایہ کاری کے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: کئی ممالک پاکستانی معدنیات میں سرمایہ کاری سے مطمئن ہیں، وزیر تجارت جام کمال خان
جام کمال خان نے وفود کو پاکستان کی نئی تجارتی پالیسی، گاڑیوں کی درآمدی پالیسی اور ٹیرف میں اصلاحات پر بریفنگ دی اور بتایا کہ پہلی بار پاکستان میں ٹریڈ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیشن قائم کیا گیا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو شفاف اور تیز تر سہولت فراہم کی جا سکے۔
ملاقات میں آسیان ممالک کے سفرا نے پاکستان کی معاشی پیشرفت اور استحکام پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ملائیشین سفیر نے پاکستانی کمپنیوں کو چِپ میکنگ انڈسٹری میں کردار دینے کی پیشکش بھی کی۔
سفرا نے مذہبی سیاحت، ہنر کے تبادلے اور سپلائی چین شراکت داریوں کو مزید فروغ دینے پر بھی زور دیا۔ اتفاق کیا گیا کہ تجارتی و ادارہ جاتی تعاون بڑھانے کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کیا جائے گا تاکہ خطے کے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچایا جاسکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ جام کمال خان سنٹرل ایشیا گیٹ وے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ جام کمال خان سنٹرل ایشیا گیٹ وے جام کمال خان آسیان ممالک
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔