data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے مغربی ممالک کے فیصلوں کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فرانس، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، پرتگال اور دیگر ممالک کے اس تاریخی اقدام کا خیرمقدم کرتا ہے۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ یہ تسلیمات خطے میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق یہ اقدام فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی بین الاقوامی سطح پر توثیق ہے۔

اسحاق ڈار نے فخر کے ساتھ یاد دلایا کہ پاکستان کو 1988 میں فلسطین کی آزادی کے اعلان کے بعد اسے تسلیم کرنے والے پہلے ممالک میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کی ہے اور آج بھی اس موقف پر قائم ہے۔

وزیر خارجہ نے ان تمام ممالک سے جنہوں نے ابھی تک فلسطین کی ریاستی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا، اپیل کی کہ وہ بین الاقوامی قانون کے ساتھ اپنی وابستگی کے مطابق اسی طرح کے اقدامات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کی مشترکہ کوششیں ہی خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنا سکتی ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں فلسطین کی ریاستی حیثیت کے حوالے سے ایک نئی تحریک شروع ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کا یہ موقف نہ صرف اس کے مستقل خارجہ پالیسی اصولوں کے عکاس ہے، بلکہ یہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے عزم کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

ویب ڈیسک تنویر انجم.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے

جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔

تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔

اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔

جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔

جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس