پاکستان کا افغانستان سے درآمدات پر انحصار میں اضافہ‘ برآمدات میں کمی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) پاکستان کا افغانستان سے درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی ہوئی ہے۔وزارتِ تجارت کے ذرائع کے مطابق اگست میں افغانستان سے درآمدات ماہانہ بنیاد پر 50 فیصد بڑھیں جب کہ افغانستان سے سالانہ بنیاد پر درآمدات میں 16 فیصد اضافہ ہوا۔ وزارتِ تجارت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی گزشتہ ماہ اگست میں افغانستان سے درآمدات کا حجم 5 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز رہا جبکہ جولائی2025ء میں افغانستان سے پاکستان کی درآمدات 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز تھیں۔اگست 2024ء میں افغانستان سے پاکستان کی درآمدات 4 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز تھیں جب کہ رواں مالی سال کے پہلے 2 ماہ میں افغانستان سے درآمدات 9 کروڑ 10 لاکھ ڈالرز رہیں۔ وزارت تجارت کے ذرائع کے مطابق اگست 2025ء میں سالانہ اور ماہانہ بنیاد پر افغانستان کے لیے پاکستانی برآمدات میں کمی ہوئی، گزشتہ ماہ افغانستان کے لیے پاکستانی برآمدات میں ماہانہ بنیاد پر 13 فیصد کمی جب کہ سالانہ بنیاد پر افغانستان کے لیے برآمدات میں ایک فیصد کمی ہوئی۔اسی طرح اگست 2025ء میں افغانستان کے لیے پاکستانی برآمدات 8 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز جب کہ مالی سال کے پہلے 2 ماہ میں افغانستان کے لیے پاکستانی برآمدات 19 کروڑ ڈالرز رہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افغانستان کے لیے پاکستانی برا مدات افغانستان سے درا مدات میں افغانستان سے برا مدات میں لاکھ ڈالرز بنیاد پر
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔