سیلاب سے متاثرہ خانیوال عبدالحکیم سیکشن تاحال معطل، فیصل آباد سے کراچی جانیوالے مسافر رل گئے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
لاہور:
فیصل آباد سے کراچی جانے اور آنے والے ہزاروں مسافر رل گئے، ریل گاڑی سے سفر کرنے کے لیے مسافروں کو مزید کئی ماہ تک انتظار کی سولی پر لٹکنا پڑے گا، سیلاب سے متاثرہ پل اور ریلوے ٹریک کا تعمیراتی کام تاحال شروع نہ ہو سکا۔
ایکسپریس نیوز کو ملنے والی معلومات کے مطابق سیلاب سے متاثرہ پل کی تعمیر کے لیے ابھی ٹینڈر جاری کیا گیا ہے، تعمیراتی کام کب شروع ہوگا پتا نہیں۔
گزشتہ ماہ سے فیصل آباد ریلوے اسٹیشن سے ریل گاڑیوں کی آمد و رفت معطل ہے، ریل گاڑی سے سفر کرنے والے ہزاروں مسافر ترس گئے، جو بہت مجبور ہیں وہ لاہور آکر کراچی کے لیے روانہ ہو رہے ہیں جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔
پاکستان ریلویز کو فیصل آباد ریلوے اسٹیشن سے ریل گاڑیوں کی آمد و رفت معطل ہونے سے 50 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا۔ فیصل آباد سیکشن بند ہونے سے شالیمار ایکسپریس، پاکستان ایکسپریس سمیت پانچ ریل گاڑیاں براستہ فیصل آباد کراچی جانے کے بجائے ساہیوال سے کراچی کے لیے روانہ ہو رہی ہیں۔
پاکستان ریلویز کی جانب سے روزانہ پانچ ریل گاڑیاں جن میں ملت، قراقرم، رحمان بابا، شالیمار اور پاکستان ایکسپریس شامل ہیں، ہزاروں مسافروں کو لیکر براستہ فیصل آباد کراچی جاتی اور آتی ہیں۔ شورکوٹ خانیوال عبد الحکیم والا سیکشن سیلاب کی وجہ سے بند ہے اور ان تمام ٹرینوں کی آمدورفت اب ساہیوال سے ہو رہی ہے۔
ٹرین سروس معطل ہونے سے ہزاروں مسافروں کو ریلوے انتظامیہ نے ٹکٹوں کے ریفنڈز جاری کر دیے جنہوں نے ٹکٹ ریفنڈز نہیں کروائے، ان کو لاہور سے براستہ ساہیوال بھجوایا جا رہا ہے۔
ریلوے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلویز نے خانیوال سے شورکوٹ اور شورکوٹ شاہین آباد سیکشن کی مرمت کے لیے ٹینڈر جاری کر دیا، سیلابی صورتحال کے پیشں نظر ریواز برج اور بند کو توڑا گیا تھا، دونوں سیکشنز پر مرمت کے لیے ٹینڈرز نوٹس جاری کر دیے گئے، ٹینڈر ایوارڈ ہونے کے بعد دونوں سیکشن پر 25 دنوں میں تعمیراتی کام مکمل کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔