لاہور:

فیصل آباد سے کراچی جانے اور آنے والے ہزاروں مسافر رل گئے، ریل گاڑی سے سفر کرنے کے لیے مسافروں کو مزید کئی ماہ تک انتظار کی سولی پر لٹکنا پڑے گا، سیلاب سے متاثرہ پل اور ریلوے ٹریک کا تعمیراتی کام تاحال شروع نہ ہو سکا۔

ایکسپریس نیوز کو ملنے والی معلومات کے مطابق سیلاب سے متاثرہ پل کی تعمیر کے لیے ابھی ٹینڈر جاری کیا گیا ہے، تعمیراتی کام کب شروع ہوگا پتا نہیں۔

گزشتہ ماہ سے فیصل آباد ریلوے اسٹیشن سے ریل گاڑیوں کی آمد و رفت معطل ہے، ریل گاڑی سے سفر کرنے والے ہزاروں مسافر ترس گئے، جو بہت مجبور ہیں وہ لاہور آکر کراچی کے لیے روانہ ہو رہے ہیں جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

پاکستان ریلویز کو فیصل آباد ریلوے اسٹیشن سے ریل گاڑیوں کی آمد و رفت معطل ہونے سے 50 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہو چکا۔ فیصل آباد سیکشن بند ہونے سے شالیمار ایکسپریس، پاکستان ایکسپریس سمیت پانچ ریل گاڑیاں براستہ فیصل آباد کراچی جانے کے بجائے ساہیوال سے کراچی کے لیے روانہ ہو رہی ہیں۔

پاکستان ریلویز کی جانب سے روزانہ پانچ ریل گاڑیاں جن میں ملت، قراقرم، رحمان بابا، شالیمار اور پاکستان ایکسپریس شامل ہیں، ہزاروں مسافروں کو لیکر براستہ فیصل آباد کراچی جاتی اور آتی ہیں۔ شورکوٹ خانیوال عبد الحکیم والا سیکشن سیلاب کی وجہ سے بند ہے اور ان تمام ٹرینوں کی آمدورفت اب ساہیوال سے ہو رہی ہے۔

ٹرین سروس معطل ہونے سے ہزاروں مسافروں کو ریلوے انتظامیہ نے ٹکٹوں کے ریفنڈز جاری کر دیے جنہوں نے ٹکٹ ریفنڈز نہیں کروائے، ان کو لاہور سے براستہ ساہیوال بھجوایا جا رہا ہے۔

ریلوے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلویز نے خانیوال سے شورکوٹ اور شورکوٹ شاہین آباد سیکشن کی مرمت کے لیے ٹینڈر جاری کر دیا، سیلابی صورتحال کے پیشں نظر ریواز برج اور بند کو توڑا گیا تھا، دونوں سیکشنز پر مرمت کے لیے ٹینڈرز نوٹس جاری کر دیے گئے، ٹینڈر ایوارڈ ہونے کے بعد دونوں سیکشن پر 25 دنوں میں تعمیراتی کام مکمل کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فیصل آباد کے لیے

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب