سیلابی نقصانات کم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے، معین وٹو
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر معین وٹو نے مستقبل میں سیلاب کے خطرات سے نٹمنے کے لیے ڈیمز کی تعمیر پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی نقصانات کم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعظم کی ہدایت پر ملک کی آبی ذخیرہ صلاحیت بڑھانے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت وفاقی وزیر معین وٹو نے کی، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین واپڈا نے اجلاس میں شرکت کی۔
معین وٹو نے کہا کہ مستقبل کے سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے مزید ڈیمز کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے، آئندہ سیلاب سے نقصانات روکنے کے لیے پیشگی اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پانی کا مؤثر انتظام غذائی، توانائی اور انسانی سلامتی سے براہ راست منسلک ہے، سیلابی پانی کے مؤثر استعمال اور ذخیرے کے لیے مربوط منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شجرکاری کو مؤثرانداز میں فروغ دینا ہوگا تاکہ سیلابی انتظام میں بہتری لائی جا سکے، مؤثر واٹر مینجمنٹ ہی زرعی پیداوار اور ملکی معیشت کے استحکام کی ضمانت ہے۔
معین وٹو نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر آبی ڈھانچے کی بہتری کے لیے مربوط اقدامات کریں گی، سیلابی نقصانات کم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: معین وٹو نے کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔