غزہ میں قتل و غارت کی تمام حدیں پار ہوگئیں؛ سربراہ اقوام متحدہ کا افتتاحی خطاب
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس نیویارک میں شروع ہو گیا جس میں سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے دنیا کے بڑھتے ہوئے بحرانوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ 80 سال پہلے درجنوں ممالک نے دنیا میں امن کے لیے اقوام متحدہ کو تشکیل دیا تھا۔
انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ دنیا میں قیام امن اور انسانیت کی بقا کے لیے ایک موثر اور اجتماعی حکمت عملی کے طور پر کام کرتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ اصول جن پر اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی گئی تھی آج محاصرے میں ہیں۔ امن اور ترقی کے ستون بے حسی، عدم مساوات اور سزا سے استثنیٰ کے بوجھ تلے لرز رہے ہیں۔
انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جو غیر ذمے دارانہ خلفشار اور مسلسل انسانی تکالیف سے عبارت ہے۔
سیکریٹری جنرل نے رکن ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ ہم کس طرح کی دنیا تعمیر کرنا چاہتے ہیں؟ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا، کیونکہ ہمارے سامنے انسانی المیوں اور ماحولیاتی خطرات کی گھنٹیاں مسلسل بج رہی ہیں۔
سربراہ اقوام متحدہ نے مزید کہا کہ خودمختار ممالک پر حملے کیے جا رہے ہیں، بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، سچ کو دبایا جا رہا ہے، اور شہروں کے ملبے سے دھواں اٹھ رہا ہے۔
فلسطین کی صورت حال کا خصوصی طور پر زکر کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ غزہ میں ہولناکیاں جاری ہیں اور وہاں قتل و غارت کا دائرہ تمام حدیں پار کر چکا ہے۔
انھوں نے غزہ کی صورت حال کو بدترین قرار دیتے ہوئے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ غزہ پر عالمی عدالت کے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ حماس کے 7 اکتوبر کے حملوں کے جواب میں غزہ کے معصوم عوام کو اجتماعی سزا دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
سربراہ اقوام متحدہ نے مزید کہا کہ غزہ میں مستقل جنگ بندی اور فوری طور پر یرغمالیوں کی رہائی چاہتے ہیں۔
انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی صلاحیتوں کو "کمزور" کرنے کی منظم کوششیں کی جاری ہیں جس سے عالمی امن اور ترقی کے اہداف شدید خطرے سے دوچار ہیں۔
گوتریس نے سلامتی کونسل کی موجودہ حیثیت پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر امریکا اور روس کی جانب سے بار بار ویٹو پاور کے استعمال کو تنقید کا نشانہ بنایا جس نے غزہ اور یوکرین کی جنگوں میں عالمی ادارے کے کردار کو محدود کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کے لیے فنڈنگ میں کٹوتی کر دی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اقوام متحدہ کا سب سے بڑا مالی معاون ہے اور فنڈز میں کمی ادارے کی کارکردگی پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انتونیو گوتریس نے نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ رہا ہے
پڑھیں:
5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
وزیراعلیٰ پنجاب(chief minister punjab) کی ہدایات پر تمام کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری تاکہ برساتی نالوں کی صفائی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل رکھے جائیں؛ ترجمان پی ڈی ایم اے
پنجاب کے میدانی اور بالائی علاقوں میں چند روز سے جاری شدید گرمی کے بعد اب بیشتر اضلاع میں طوفانی ہواؤں، گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کی اہم پیشگوئی جاری کی ہے
بتایا گیا ہے کہ راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، جہلم، چکوال، گوجرانوالہ، حافظ آباد، سیالکوٹ، نارووال اور شیخوپورہ، سرگودھا، میانوالی، خوشاب، منڈی بہاؤالدین، فیصل آباد، جھنگ و گردونواح، لاہور، اوکاڑہ، بھکر اور لیہ میں بارشوں کا امکان ہےْ
جس کے باعث وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایات کے پیشِ نظر صوبے بھر کے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے تاکہ برساتی نالوں کی صفائی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل رکھے جائیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر جاوید نے خراب موسم کے دوران شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی ہے کہ شہری آسمانی بجلی سے بچنے کے لیے محفوظ مقامات کے اندر رہیں اور گرج چمک کے دوران کھلے مقامات یا درختوں تلے ہرگز کھڑے نہ ہوں۔
کسان اپنی فصلوں کی کٹائی اور سنبھال سمیت تمام تر پیشگی اقدامات موجودہ موسمی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں، مری، گلیات اور شمالی علاقہ جات کے سفر پر روانہ ہونے والے سیاح موسم کی شدت کو دیکھتے ہوئے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
مزید پڑھیں:شہری پی ڈی ایم اے کی آفیشل ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں
کسی بھی بھی ناگہانی یا ایمرجنسی صورتحال کی صورت میں شہری فوری طور پر پی ڈی ایم اے کی آفیشل ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔