امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا میں امن کے داعی ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
امریکی صدر نے کئی ملکوں کی جنگیں رکوائیں، پاک بھارت جنگ رکوانے میں بھی اہم کردار ادا کیا، جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران سائیڈ لائن پر نجی ٹی وی کے نمائندے سے گفتگو میں وزیراعظم شہباز شرریف نے کہا کہ امریکی صدر نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں اہم باتیں کی ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ دنیا میں امن کے لیے کام کررہے ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے باضابطہ آغاز کی تقریب میں شرکت۔
ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی شریک۔#PMShehbazAtUNGA pic.
— Haroon Anjum (@_Haroon79) September 23, 2025
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جنرل اسمبلی میں صدر ٹرمپ نے جو باتیں کی ان میں سب سے اہم یہ کہ وہ اس دنیا میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں، وہ امن کے داعی ہیں، انہوں نے آج پھر کئی ممالک کی کشیدگی ختم کرانے کی بات کی، انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان 4 دن کی خوفناک جنگ ختم کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت فوری و مکمل جنگ بندی پر تیار ہوگئے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
انہوں نے کہا کہ پاک بھارت جنگ بندی میں صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کا اہم کردار ہے، جس پر ہم ان کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اقوام متحدہ امریکا امن بھارت پاکستان جنرل اسمبلی جنگ بندی ڈونلڈ ٹرمپ شہباز شریف
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ امریکا بھارت پاکستان جنرل اسمبلی ڈونلڈ ٹرمپ شہباز شریف اقوام متحدہ جنرل اسمبلی امریکی صدر شہباز شریف ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز