کمار سانو کی سابقہ اہلیہ نے گلوکار پر سنگین الزامات عائد کردیئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
بھارتی گلوکار کمار سانو کی سابقہ اہلیہ ریٹا بھٹاچاریہ نے گلوکار پر سنگین الزامات عائد کردیئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گلوکار کمار سانو نے 1986 میں ریٹا سے شادی کی تھی اور ان کے تین بچے ہیں۔ تاہم 1994 میں اداکارہ کنیکا سدانند کے ساتھ ان کے تعلقات کے منظر عام پر آنے کے بعد ان کی پہلی اہلیہ نے ان سے راہیں جُدا کرلیں اور بچوں کی کسٹڈی بھی ریٹا کو ہی ملی۔
ایک حالیہ انٹرویو میں ریٹا نے کمار سانو پر شادی کے دوران بدسلوکی اور بدتمیزی کے الزامات عائد کیے ہیں جس کی وجہ سے کمار سانو خبروں کی سُرخیوں کا حصہ بن گئے ہیں۔
کمار سانو کی سابقہ اہلیہ نے کہا کہ انہوں نے سابق شوہر کے کیریئر کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن شہرت ملنے کے بعد شوہر نے انہیں چھوڑ دیا۔ ریٹا کے مطابق کمار سانو کبھی بھی گلوکاری کے لیے پرجوش نہیں تھے یہ ریٹا ہی تھیں جنہوں نے ان کو حوصلہ دیا اور ان کا ساتھ دیا۔
ریٹا نے بتایا کہ ممبئی کے ابتدائی دنوں میں مالی مشکلات کے باوجود انہوں نے کمار سانو کا ساتھ دیا، لیکن فلم ’عاشقی‘ کی کامیابی کے بعد ان کا رویہ بدل گیا۔ ریٹا نے گلوکار پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ دوران حمل انہیں گلوکار کی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا، ان کے کھانے پینے اور بچوں کی دیکھ بھال میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔
ریٹا بھٹاچاریہ نے کہا کہ اس دوران انہیں عدالت میں بھی لے جایا گیا اور کمار سانو کا افیئر بھی شروع ہو گیا جو ان کی طلاق کی وجہ بنا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: الزامات عائد
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔