پنجاب میں سیلاب نقصانات کے سروے کے لیے فوج تعینات کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
پنجاب حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت نے صوبے میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے سروے کے لیے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وژن پاکستان 2030 سیلاب متاثرہ نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ہے، شاہد آفریدی
نجی چینل میں شائع زرّین زہرہ کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے فوج کی تعیناتی کے باضابطہ احکامات پنجاب حکومت کو ارسال کر دیے ہیں۔ فوج کی خدمات صوبے کے 27 اضلاع میں نقصانات کے سروے کے لیے حاصل کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فوج کی تعیناتی سیلاب کے نقصانات کے تخمینے کے لیے مشترکہ سروے ٹیم کا حصہ ہوگی۔
اس سروے میں انسانی جانوں، املاک، فصلوں، مویشیوں اور انفرا اسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات کا تفصیلی تعین کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ حالیہ سیلاب میں بڑی تعداد میں جانی اور مالی نقصان ہوا ہے جس کے بعد ایک جامع سروے ناگزیر قرار دیا گیا۔ وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی عمل میں لائی۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب حکومت کا سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف پیکیج، کیا کسان خوش ہیں؟
پنجاب میں سیلاب کے دوران پاک فوج اور دیگر اداروں نے بروقت ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے ہزاروں متاثرہ شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرمی املاک زرعی نقصانات سروے سیلاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: املاک زرعی نقصانات سروے سیلاب نقصانات کے کے لیے فوج کی
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔