سندھ کے عوام بھی چاہتے ہیں انکے پاس مریم نواز جیسی وزیراعلیٰ ہوتی: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
لاہور (نیوز رپورٹر) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی حالیہ پریس کانفرنس پر ردعمل میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے کچھ لوگ سیلابی سیاست اور نمبر ٹانگنے کے سوا کچھ نہیں کرتے۔ یہ رہنما ایک طرف دعویٰ کرتے ہیں کہ گندم کا نقصان ہوا ہے اور دوسری طرف مطالبہ کرتے ہیں کہ گندم باہر بھیج دی جائے۔ یہ دوہرا معیار عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ پیپلز پارٹی کا الزام ہے کہ پنجاب کو ڈبویا گیا، سوال یہ ہے کہ جب سندھ میں بار بار سیلاب آتا ہے تو کیا وہ خود سندھ کو ڈبوتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ رہنما عوامی خدمت کے بجائے صرف الزام تراشی اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں مصروف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے آج تک سیلاب متاثرین کے لیے کیا کیا؟ آئی ایم ایف کا بہانہ پنجاب پر لگانے والے یہ رہنما یہ کیوں نہیں بتاتے کہ سندھ میں گندم خریدی گئی یا نہیں؟ اگر سندھ میں گندم نہ خریدنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس پر کون سے رولز لاگو ہوں گے؟ پیپلز پارٹی کے رہنما گھروں میں بیٹھ کر ہمیں نہ بتائیں کہ سیلاب کہاں آنا تھا اور کہاں بند ٹوٹنا تھا۔ ایسے فیصلے حکومتیں حالات اور واقعات کو دیکھ کر کرتی ہیں، نہ کہ محض سیاسی بیانات کی بنیاد پر۔ مریم نواز کی کارکردگی کی تعریف بلاول بھٹو خود کر چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سندھ کے عوام بھی چاہتے ہیں کہ ان کے پاس مریم نواز جیسی وزیر اعلیٰ ہوتی۔ بی آئی ایس پی کو سیاست میں گھسیٹنا بھی ایک افسوسناک رویہ ہے۔ یہ پروگرام اپنے قانون اور طریقہ کار کے تحت چل رہا ہے، اس کو بار بار سیلاب سے جوڑنا محض سیاست ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اتنے قابل ہوتے تو آج پنجاب میں ان کی یہ حالت نہ ہوتی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔