پنجاب میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے سروےکے لیے پاک فوج تعینات کرنےکی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی حکومت نے پنجاب میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے سروےکے لیے پاک فوج تعینات کرنےکی منظوری دے دی۔سیلاب سروے کے لیے پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت سے فوج کی خدمات مانگی تھیں۔
جیو نیوز کے مطابق وفاقی حکومت نےفوج کی تعیناتی کے باضابطہ احکامات پنجاب حکومت کو بھجوا دیے ہیں۔ فوج کی تعیناتی پنجاب کے27 اضلاع میں سیلاب نقصانات سروے کے لیےکی گئی ہے۔ پنجاب میں فوج کی تعیناتی سیلاب کے نقصانات کے تخمینے کے لیے مشترکہ سروے ٹیم کاحصہ ہے۔وفاقی حکومت نےآئین کےآرٹیکل 245 کے تحت سیلاب سروے کے لیے فوج کی تعیناتی کی ہے۔حالیہ سیلاب میں بڑی تعداد میں انسانی جانوں اور املاک کو شدید نقصان ہوا، ایک جامع سروے ناگزیر قرار دیا گیا ہے، سروے میں جان ومال، فصلوں، مویشیوں، انفرا اسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصانات کا تعین کیا جائےگا۔
سیاست سے باہر نکلیں اور ٹیم کے لئے کھیلیں، یونس خان کا مشورہ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: فوج کی تعیناتی وفاقی حکومت کے لیے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔