وژن پاکستان 2030 سیلاب متاثرہ نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ہے، شاہد آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور معروف سماجی شخصیت شاہد خان آفریدی نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ’وژن پاکستان 2030‘ منصوبے کو ملک کے نوجوانوں اور سیلاب متاثرین کے لیے امید کی کرن قرار دیا۔
شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستان اس وقت مشکل حالات سے گزر رہا ہے لیکن اگر حکومت، نجی شعبہ اور عوام ایک ٹیم کی طرح متحد ہو جائیں تو ترقی کی نئی راہیں کھولی جا سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: ’مرد کا بچہ ہے تو آمنے سامنے بات کرے‘ شاہد آفریدی کا عرفان پٹھان کو کرارا جواب
ان کا کہنا تھا کہ جب ہم کرکٹ میں ایک ٹیم بن کر کھیلتے ہیں تو دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں کو بھی شکست دیتے ہیں۔ آج وہی جذبہ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے دکھانے کا وقت ہے۔
شاہد آفریدی نے کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم، ڈیجیٹل مہارتوں اور کاروباری مواقع فراہم کرنا اصل ترقی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے متاثرہ نوجوان نہ صرف خود کفیل ہوں گے بلکہ ملکی معیشت میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔
مزید پڑھیں: محمد یوسف کا شاہد آفریدی کیخلاف عرفان پٹھان کی غیرشائسہ زبان پر ردعمل، اپنے ایک بیان کی بھی وضاحت کردی
شاہد آفریدی کو وژن پاکستان 2030 کا برانڈ ایمبیسیڈر بھی مقرر کیا گیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ ذاتی طور پر اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’وژن پاکستان 2030‘ پاکستان کرکٹ ٹیم سیلاب متاثرہ نوجوان شاہد آفریدی نیشنل پریس کلب اسلام آباد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: وژن پاکستان 2030 پاکستان کرکٹ ٹیم سیلاب متاثرہ نوجوان شاہد آفریدی نیشنل پریس کلب اسلام آباد وژن پاکستان 2030 شاہد آفریدی کے لیے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔