پاکستان میں کان کنی کے شعبے کی ترقی اور عالمی سرمایہ کاری کے نئے مواقع
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
احمد منصور: پاکستان میں کان کنی کے شعبے کی ترقی اور عالمی سرمایہ کاری کے نئے مواقع,پاکستان میں نایاب معدنیات بشمول تانبہ، سونا، نمک اور کوئلہ کے وسیع ذخائر موجود ہیں.
تفصیلات کےمطابق ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان میں کان کنی کے شعبہ میں ترقی کی راہ ہموار ہوگئی، معدنیات کے موثر استعمال سے پاکستان کی آمدنی 8 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
ریکو ڈک منصوبے سے 37 سالوں میں 70 ارب ڈالر کی آمدنی متوقع ہے، پاکستان کے کان کنی کے شعبہ میں عالمی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔
اسلام آباد میں پراپرٹی ٹیکس میں اضافے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار
امریکہ،جاپان، چین اور مشرق وسطیٰ کی جانب سے بھی سرمایہ کاری جلد متوقع ہے ، کان کنی کے شعبہ کی ترقی کے لیے مالیاتی مراعات، معدنی وسائل تک رسائی اور اصلاحات اہم ہیں۔
مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد کان کنی کے شعبہ کی ترقی کے لیے اہم سنگ میل ہے۔
بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کان کنی کی ترقی سے ملکی استحکام ،خوشحالی اور روز گار کے مواقع فراہم ہونگے، کان کنی صنعتی فروغ، ملازمتوں کی فراہمی اور پائیدار ترقی کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔
توشہ خانہ ٹو کیس:بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستوں پر سماعت 7 اکتوبر کو مقرر
ایس آئی ایف سی پاکستان میں کان کنی کے شعبہ کی ترقی کے لیے کوشاں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔