بابر اعظم کی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں واپسی کا فیصلہ، جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں شرکت متوقع
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز بابر اعظم کی ایک بار پھر ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں واپسی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز بابر اعظم کی شمولیت پر غور چند روز قبل ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ 2025 کے لیے بھی کیا گیا تھا، تاہم منتظمین نے واضح کر دیا تھا کہ اسکواڈ میں تبدیلی اسی صورت ممکن ہے جب کوئی کھلاڑی انجری کا شکار ہو۔
بورڈ ذرائع کا کہنا ہے کہ بابر اعظم کی قومی ٹیم میں واپسی کے امکانات اب روشن ہو گئے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جنوبی افریقہ کے خلاف آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں ایکشن میں دکھائی دیں گے۔ کرکٹ حلقوں کے مطابق بابر کی واپسی ٹیم کے بیٹنگ لائن اپ کو مزید تقویت فراہم کرے گی۔
یاد رہے کہ بابر اعظم نے اپنا آخری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ دسمبر 2024 میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلا تھا۔ اس کے بعد سے وہ محدود اوورز کی کرکٹ میں اسکواڈ کا حصہ نہیں رہے۔ تاہم ان کی فارم اور تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے سلیکشن کمیٹی نے انہیں دوبارہ ٹیم میں شامل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
قومی کرکٹ کے شائقین اور ماہرین کا ماننا ہے کہ بابر کی واپسی ٹیم کے لیے نہ صرف حوصلہ افزا ہوگی بلکہ آنے والے بڑے ٹورنامنٹس میں پاکستان کے بیٹنگ شعبے کو بھی نیا استحکام فراہم کرے گی۔
ویب ڈیسک
دانیال عدنان
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بابر اعظم کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔