لداخ میں بدامنی کشمیر کی تقسیم اور تنزلی کے یکطرفہ فیصلے کا نتیجہ ہے، میرواعظ کشمیر
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
ڈاکٹر عمر فاروق نے کہا کہ لداخ کے لوگوں کیساتھ کئے گئے وعدوں کی تکمیل نہ ہونے کیوجہ سے بدقسمتی سے یہ واقعات پیش آئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وادی کشمیر کے آزادی پسند رہنما اور میرواعظ کشمیر مولوی عمر فاروق نے لداخ میں قیمتی جانوں کی ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ پُرتشدد مظاہرے جموں و کشمیر کی تقسیم اور تنزلی کے یکطرفہ فیصلے کا نتیجہ ہے۔ میرواعظ عمر فاروق نے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ لداخ کے مظاہروں میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرا دکھ ہوا ہے، ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم اور تنزلی کے یکطرفہ فیصلے کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لداخ کے لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی تکمیل نہ ہونے کی وجہ سے بدقسمتی سے یہ واقعات پیش آئے ہیں۔ اپنے پوسٹ میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت لداخ کے لوگوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرے گی وعدے وفا کر کے وہاں کے عام لوگوں کی جانیں بچائی جائیں گیں۔
واضح رہے کہ لیہہ اپیکس باڈی (LAB)، جو لداخ کو ریاستی درجے دینے اور چھٹے شیڈول کے مطالبے کی تحریک کی حمایت کر رہی ہے، کی جانب سے بدھ کو ہڑتال کی کال دوران لہیہ میں مظاہرے ہوئے جو پر تشدد رخ اختیار کر گئے اور ان پر تشدد مظاہروں میں لوگوں اور بھارتی فورسز کے مابین جھڑپوں میں 5 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 80 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ ادھر بھارتی وزارت داخلہ نے بدھ کو لداخ کے سماجی کارکن سونم وانگچُک کو لیہہ میں بدامنی کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے جو کہ 15 روز سے بھوک ہڑتال پر تھے۔ وانگ چُک جو لداخ کے لئے ریاستی درجے کو لے کر 15 روزہ بھوک ہڑتال پر تھے، نے گزشتہ روز تشدد کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لداخ کے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔