وزارت داخلہ نے کہا کہ وہ مطالبات جن پر وانگچوک بھوک ہڑتال پر تھے وہ اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی (ایچ پی سی) میں بحث کا لازمی حصہ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی وزارت داخلہ نے بدھ کو سماجی کارکن سونم وانگچک کو لیہہ میں بدامنی کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جس میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ دوسری طرف وانگچک جو لداخ کے لئے ریاستی درجے کے مطالبے پر 15 روزہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے، تشدد کے بعد اپنی ہڑتال ختم کر دی۔ ایک بیان میں وزارت داخلہ نے کہا کہ وہ مطالبات جن پر وانگچوک بھوک ہڑتال پر تھے وہ اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی (ایچ پی سی) میں بحث کا لازمی حصہ ہیں، بہت سے لیڈروں کی جانب سے بھوک ہڑتال ختم کرنے پر زور دینے کے باوجود انہوں نے بھوک ہڑتال جاری رکھی، مزید یہ کہ "عرب بہاریہ" کی طرح کے احتجاج اور نیپال میں "جنریشن زیڈ" تحریک کا حوالہ دے کر اشتعال انگیز طریقے سے لوگوں کو گمراہ کیا۔

اس میں مزید کہا گیا کہ 24 ستمبر کو تقریباً 11.

30 بجے، ان کی اشتعال انگیز تقریروں سے اکسایا گیا ایک ہجوم بھوک ہڑتال کے مقام سے نکل گیا اور سیاسی پارٹی (بی جے پی) کے دفتر کے ساتھ ساتھ سی ای سی لیہہ کے سرکاری دفتر پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے ان دفاتر کو آگ لگا دی، سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کیا اور پولیس کی گاڑی کو نذر آتش کر دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ بے قابو ہجوم نے سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کیا جس میں 30 سے ​​زیادہ پولیس/سی آر پی ایف اہلکار زخمی ہوئے۔ ہجوم نے عوامی املاک کی تباہی اور پولیس اہلکاروں پر حملے جاری رکھے۔ اپنے دفاع میں پولیس کو فائرنگ کا سہارا لینا پڑا جس میں بدقسمتی سے کچھ ہلاکتیں بھی ہوئیں۔

بھارتی وزارت نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ سونم وانگچک نے اپنے اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے ہجوم کو بھڑکایا تھا۔ اتفاق سے ان پُرتشدد واقعات کے بیچ انہوں نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی اور صورت حال پر قابو پانے کی سنجیدہ کوشش کیے بغیر ایمبولینس میں اپنے گاؤں کے لئے روانہ ہوگئے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی اگلی میٹنگ چھ اکتوبر کو طے کی گئی ہے جب کہ 25 اور 26 ستمبر کو لداخ کے رہنماؤں سے ملاقاتوں کا بھی منصوبہ ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وزارت داخلہ بھوک ہڑتال

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار