کریٹر آف ڈائمنڈ میں ایک فیملی نے بھورے رنگ کا ہیرا دریافت کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
حال ہی میں ایک فیملی نے امریکی ریاست آرکنساس کے علاقے کریٹر آف ڈائمنڈز میں 2.79 کیریٹ کا بھورا ہیرا دریافت کیا ہے۔
اس ہیرے کا نام انہوں نے “William Diamond” رکھا ہے۔ یہ پارک میں اس سال اب تک کی تیسری بڑی دریافت ہے۔
پارک کے عملے کا کہنا ہے کہ بھورے رنگ کے ہیرے وہاں “plastic deformation” کے عمل کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، یعنی بنتے وقت ساختی عیوب پیدا ہو جاتے ہیں جو روشنی کو فلٹر کر کے رنگ بدل دیتے ہیں۔
اس پارک کی خاص بات یہ ہے کہ زائرین جو ہیرا تلاش کرتے ہیں وہ اسے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں بشرطیکہ وہ اسے رجسٹر کرا لیں۔
بھورے رنگ کے ہیرے نسبتاً عام ہیں، مگر ان کی قدر سفید یا شفاف ہیرے کی طرح نہیں ہوتی، خاص طور پر اگر وہ خام حالت میں ہوں یا اندر زیادہ ملاوٹ ہو۔
رنگ کی شدت، شفافیت، شمولیات (inclusions) اور کٹ کی کیفیت ہی اس ہیرا کی قدر کو متاثر کرتی ہے۔
چونکہ یہ دریافت ایک عوامی جگہ میں ہوئی ہے جہاں تلاش آزاد ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی مائننگ کارپوریشن یا شخصی منافع بخش مائننگ نہیں ہوتی بلکہ شوقیہ تلاش کے نتیجے میں یہ پتھر دریافت ہوا ہے۔
ایسی دریافتیں اس بات کی نمائندہ ہیں کہ قیمتی پتھر زمین کی سطح کے قریب بھی موجود ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے علاقے جہاں ماضی میں آتش فشانی اور زمینی تغیّرات ہوئے ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا
اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔
گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی
ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل گوگل پاسپورڈ