وزیر اعلیٰ سندھ کا کراچی کی تمام سڑکوں کی تعیرِ نو اور مرمت کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی تمام سڑکوں کی مرمت اور تعمیر نو کا حکم دے دیا۔
کراچی میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت شہر کی اندرونی سڑکوں کی تعمیر سے متعلق اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شرکت کی۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کراچی میں حالیہ بارشوں سے اندرونی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، کے ایم سی اور ٹاؤنز محکمۂ بلدیات کی نگرانی میں اسکیمیں تیار کریں، کراچی کی تمام سڑکوں کی مرمت یا تعمیرِ نو کی جائے۔
یہ بھی پڑھیے میئر کراچی رات بھر جاگتے ہیں تاکہ ہم سکون سے سو سکیں، مراد شاہوزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سڑکوں کے ساتھ نکاسیٔ آب کا نظام بھی بنایا جائے، نکاسیٔ آب کا نظام ہو گا تو بارشوں کا پانی نکل جائے گا اور سڑکیں خراب نہیں ہوں گی۔
اس موقع پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ کے ایم سی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کا سروے کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ بلدیات سندھ نے بتایا کہ ٹاؤنز کو اپنی سڑکوں کا سروے کرنے کی ہدایت دی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کو اجلاس میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ سڑکوں کا سروے تیزی سے جاری ہے، جیسے ہی سروے مکمل ہو گا، اسکیمیں بنا کر منظوری لی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ کراچی میں صفائی کے کام کو مزید بہتر بنایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سندھ مراد علی شاہ وزیر اعلی سڑکوں کی
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔