لداخ کشیدگی میں سماجی رہنما سونم وانگچک نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
مظاہروں کے دوران بی جے پی سمیت کئی سرکاری و سیاسی دفاتر پر بھی سخت حملے ہوئے۔ اسلام ٹائمز۔ لیہہ پولیس نے آج لداخ کے معروف ماحولیاتی کارکن اور سماجی رہنما سونم وانگچک کو نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت گرفتار کر لیا۔ یہ گرفتاری ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب بدھ کے روز لیہہ میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے کم از کم چار افراد ہلاک اور سو کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ اس احتجاج کی قیادت وانگچک، لیہہ ایپکس باڈی (LAB) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (KDA) کر رہے ہیں، جو دو بڑے مطالبات پر مرکوز ہے "لداخ کو مکمل ریاستی درجہ دینا اور آئین کے چھٹے شیڈول میں شمولیت"۔ بدھ کے روز دی گئی ہڑتال کی کال کے دوران پُرامن احتجاج مظاہرہ تشدد اختیار کر گیا جس کے بعد حکام نے سخت کریک ڈاؤن شروع کیا۔
وزارت داخلہ نے سونم وانگچک کی قائم کردہ تنظیم سیکمول (SECMOL) کا ایف سی آر اے لائسنس منسوخ کر دیا اور لیہہ پولیس نے 50 سے زائد افراد کو گرفتار کر کے متعدد ایف آئی آر درج کیں اور مزید کارروائی کا بھی اشارہ دیا۔ مظاہروں کے دوران بی جے پی سمیت کئی سرکاری و سیاسی دفاتر پر بھی حملے ہوئے۔ کریک ڈاؤن کے باوجود مودی حکومت نے لداخی قیادت کے ساتھ بات چیت کے دروازے ابھی بند نہیں کئے ہیں۔ وزارت داخلہ کے نمائندوں نے لیہہ میں ایل اے بی رہنماؤں سے ملاقات کی۔
تھوپستان چیوانگ اور شیرنگ دورجے کے مطابق 27 یا 28 ستمبر کو نئی دہلی میں ایک تیاری اجلاس ہوگا جس میں ایل اے بی اور کے ڈی اے کے تین تین نمائندے اور لداخ کے رکن پارلیمان شریک ہوں گے۔ اس کے بعد سات، سات اراکین پر مشتمل اعلیٰ سطحی کمیٹی کے ساتھ باضابطہ مذاکرات ہوں گے۔ اگرچہ ایجنڈا واضح نہیں کیا گیا تاہم رہنماؤں نے تصدیق کی کہ مطالبات میں ریاستی درجہ، چھٹے شیڈول کا درجہ اور پارلیمانی نشستوں میں اضافہ شامل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔