ٹیکس دہندگان دستاویزی ثبوت دیے اثاثے ظاہر کرسکتے ہیں، ایف بی آر
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے واضح کیا ہے کہ ٹیکس دہندگان سال 2025کے انکم ٹیکس ریٹرنز میں منقولہ و غیرمنقولہ اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو اپنی صوابدید پر ظاہر کر سکتے ہیں، اس کے لیے کسی باضابطہ ویلیوایشن یا دستاویزی ثبوت کی ضرورت نہیں ہے، یہ سہولت ہائی نیٹ ورتھ انڈویجوئلز پر لاگو نہیں ہوگی جنہیں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کی دفعہ 7E کے تحت سخت رپورٹنگ تقاضے پورے کرنے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کا بڑا فیصلہ، ٹیکس چوری کی ٹھیک اطلاع پر ڈیڑھ کروڑ تک کا اعلان کردیا
ایف بی آر کی جانب سے جاری وضاحت میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر انکم ٹیکس ریٹرن فارم میں ترمیم کے حوالے سے پھیلائی جانے والی معلومات بے بنیاد ہیں۔ بیان کے مطابق 7 جولائی کو جاری ہونے والے ریٹرن فارم میں واضح طور پر اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو ظاہر کرنے کی ہدایت موجود ہے، جو فارم کے صفحہ 66 پر درج ہے۔
ابتدائی جانچ میں یہ انکشاف ہوا کہ بڑی تعداد میں ٹیکس دہندگان نے اثاثوں کی مالیت کے کالم میں صفر درج کیا جس پر نظام میں تکنیکی تبدیلی کرتے ہوئے اب صفر انٹری روک دی گئی ہے۔
ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ قانون میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی، صرف سسٹم میں تکنیکی ایڈجسٹمنٹ کی گئی ہے تاکہ غلط استعمال روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع
ایف بی آر نے مزید وضاحت کی کہ عام ٹیکس دہندگان کی جانب سے ظاہر کی گئی اثاثوں کی مالیت کو ٹیکس کی واجبات کے حساب میں شامل نہیں کیا جاتا، تاہم شفافیت اور نیک نیتی کے تحت انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اثاثوں کی ویلیو موجودہ مارکیٹ کے مطابق ظاہر کریں۔
ادارے کے مطابق پہلے سے جمع کرائے گئے ریٹرنز کو دوبارہ فائل کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور یہ انٹریز نہ تو ٹیکس اسسمنٹ میں شامل ہوں گی اور نہ ہی ویلتھ اسٹیٹمنٹ کی ری کنسیلی ایشن میں۔
ایف بی آر نے اس تاثر کو بھی مسترد کر دیا کہ ریٹرن فارم میں ترمیم کے لیے کوئی ایس آر او جاری کیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ آئی رس (IRIS) سسٹم مکمل طور پر فعال ہے اور ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن سے پہلے ریٹرنز فائل کریں۔
یہ بھی پڑھیں: 60 ہزار جیولرز کا ڈیٹا بے نقاب، ٹیکس وصولی کے لیے نوٹسز جاری کردیے
دوسری جانب پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن اور کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو خط لکھ کر ریٹرنز فائلنگ میں تکنیکی مسائل کی نشاندہی کی ہے اور ٹیکس دہندگان کو سہولت دینے کے لیے ڈیڈ لائن میں توسیع کی باضابطہ درخواست بھی کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اثاثے ایف بی آر پاکستان ٹیکس ریٹرن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر پاکستان ٹیکس ریٹرن ٹیکس دہندگان ٹیکس ریٹرن اثاثوں کی ایف بی آر کے لیے گئی ہے کی گئی
پڑھیں:
بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
وفاقی بجٹ 2026-27 کی تیاریوں کے ساتھ ہی قابل تجدید توانائی کے شعبے، بالخصوص سولر انڈسٹری کی نظریں حکومت کے ممکنہ ٹیکس اقدامات پر مرکوز ہیں۔
ملک میں بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں اور توانائی کے بحران کے باعث سولر توانائی کی جانب رجحان تیزی سے بڑھا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سولر پینلز یا متعلقہ آلات پر نئے ٹیکس عائد کرتی ہے تو اس سے نہ صرف سولر سسٹمز کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ صنعت کی ترقی اور صارفین کی دلچسپی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت شمسی توانائی کے فروغ کے لیے پرعزم، عوام کو سولر سسٹمز پر ریلیف برقرار
بجٹ میں سولر پنیلز پر ٹیکسز میں اضافے کے حوالے سے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔
وی نیوز نے سولر انڈسٹری کے ماہرین سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سولر پینلز پر ٹیکس کتنے فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے، اور اس سے سولر پینلز کی قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟
ٹیکس کی شرح بڑھی تو قیمتوں میں اضافہ ہو جائےگا، شرجیل احمداس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سولر مارکیٹ کے ماہر شرجیل احمد سلہری کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں مختلف خبریں گردش کررہی ہیں کہ آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کی جا سکتی ہے۔ یعنی 8 فیصد فیصد اضافہ متوقع ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو سولر پینلز اور سولر سسٹمز کی قیمتوں میں کم از کم 10 سے 12 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑےگا اور قابل تجدید توانائی کے فروغ کی رفتار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
شرجیل احمد سلہری نے کہاکہ پاکستان کے برعکس دنیا کے بیشتر وہ ممالک جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہیں، وہاں گرین انرجی کی مصنوعات اور منصوبوں پر ٹیکس عائد نہیں کیا جاتا۔
ان کے مطابق ایسے ممالک سولر اور دیگر متبادل توانائی کے ذرائع کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مختلف مراعات فراہم کرتے ہیں تاکہ صاف اور سستی توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
’سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے‘انجینیئر محمد حمزہ رفیع کے مطابق آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو سولر پلیٹس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
محمد حمزہ رفیع کے مطابق اگر ایسا ہو جاتا ہے تو سولر پینلز کی قیمت فی واٹ 8 سے 15 روپے تک بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو اور کمرشل صارفین کے لیے سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہاکہ قیمتوں میں اضافے سے سولر توانائی کی جانب منتقل ہونے والے نئے صارفین کی حوصلہ شکنی ہوگی، کیونکہ ملک میں پہلے ہی سولر پینلز سے منسلک حکومتی پالیسیوں نے عوام کے لیے سولر پینلز کی تنصیب کو ایک مشکل فیصلہ بنا دیا ہے۔
’ٹیکس بڑھنے کی خبروں میں سولر انڈسٹری میں تشویش‘پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان کے مطابق حکومت کی جانب سے سولر پینلز پر ٹیکس میں ممکنہ اضافے کی تجویز پر انڈسٹری میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سولر پینلز پر موجودہ 10 فیصد ٹیکس کو بڑھا کر 18 فیصد کرنے کے دباؤ کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، تاہم اس حوالے سے انڈسٹری کی کوشش ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے اس شعبے پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔
حسنات خان کے مطابق اگر ٹیکس میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر سولر سسٹمز کی قیمتوں پر پڑے گا اور صارفین کے لیے صاف توانائی حاصل کرنا مزید مہنگا ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں: سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور کے ذریعے توانائی کے حصول پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں توانائی کا بحران اور بجلی کی بلند قیمتیں پہلے ہی بڑا مسئلہ ہیں، وہاں سولر انرجی کو مزید مہنگا کرنا توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انڈسٹری حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ سولر انرجی کو ریلیف دیا جائے ورنہ کم از کم ٹیکس کو نہ بڑھایا جائے تاکہ عوام سستی اور ماحول دوست توانائی سے فائدہ اٹھا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ٹیکس میں اضافہ سولر انڈسٹری وفاقی بجٹ وی نیوز