کھیل رہے تھے تو ہاتھ بھی ملانا چاہیے تھا، کانگریس رہنما ششی تھرور کی بھارتی ٹیم پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
بھارتی کانگریس رہنما ششی تھرور نے ایشیا کپ ٹورنامنٹ کے دوران بھارتی کرکٹرز کے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ نہ ملانے کے تنازعے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کھیل کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جانا چاہیے۔
ششی تھرور نے کہا کہ اگر ہم پاکستان کے بارے میں اتنا شدت سے محسوس کرتے ہیں تو ہمیں کھیلنا ہی نہیں چاہیے تھا لیکن اگر ہم ان سے کھیل رہے ہیں تو کھیل کے جذبے کے تحت کھیلنا چاہیے اور ہمیں ان سے ہاتھ ملانا چاہیے تھا، بھارتی ٹیم منفی رویہ نہ اپنائے۔
یہ بھی پڑھیں: ہاتھ ملانے میں حرج نہیں تھا، سابق بھارتی کپتان اظہرالدین کی بھارتی ٹیم پر شدید تنقید
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے یہ پہلے بھی کیا ہے، 1999 میں جب کارگل کی جنگ جاری تھی اسی دن جب ہمارے سپاہی جان دے رہے تھے اس وقت ہم انگلینڈ میں ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف کھیل رہے تھے۔ ہم نے تب بھی ان سے ہاتھ ملائے کیونکہ کھیل کا جذبہ ملکوں، فوجوں اور دیگر معاملات سے مختلف ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے اپوزیشن جماعت کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق بھارتی کپتان محمد اظہرالدین نے بھارتی کرکٹ ٹیم پر شدید تنقید کی تھی۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہاتھ ملانے میں کوئی حرج نہیں تھا۔ جب آپ میچ کھیل رہے ہوتے ہیں تو کھیل اخلاق و آداب کے مطابق ہونا چاہیے، مجھے معلوم نہیں کہ اس معاملے میں کیا مسئلہ تھا، میں واقعی سمجھ نہیں پا رہا کہ ہاتھ نہ ملانا کیوں ضروری سمجھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی کپتان سوریا کمار کا مشتاق احمد سے مصافحہ، ’اب ان کی دیش بھگتی کہاں گئی‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹیم نے میچ کھیلنے کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے، تو پھر مکمل جذبے اور عزت کے ساتھ کھیلنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب آپ احتجاج کی کیفیت میں کھیل رہے ہوں، تو بہتر ہے کہ کھیل ہی نہ ہو۔ احتجاج کے تحت کھیلنے کا کوئی مطلب نہیں۔ اگر کھیلنا ہے تو پورے جذبے کے ساتھ کھیلنا چاہیے۔ ورنہ کھیلنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
یاد رہے کہ ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں بھارتی کپتان نے ٹاس کے بعد پاکستانی کپتان سے ہاتھ نہ ملایا، میچ کے بعد بھی بھارتی کھلاڑیوں نے پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحہ کرنے سے گریز کیا۔
اس سے قبل گروپ مرحلے کے میچ میں بھی دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے ٹاس کے موقع پر ہاتھ نہیں ملایا تھا، پھر بعد ازاں میچ کے اختتام پر بھی بھارتی ٹیم نے پاکستانی ٹیم کے ساتھ ہاتھ ملانے سے گریز کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اظہر الدین انڈیا ہاتھ نہیں ملائے انڈین ٹیم پر تنقید ایشیا کپ پاکستان بمقابلہ انڈیا ششی تھرور کارگل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اظہر الدین انڈین ٹیم پر تنقید ایشیا کپ پاکستان بمقابلہ انڈیا ششی تھرور کارگل بھارتی کپتان بھارتی ٹیم ششی تھرور کھیل رہے سے ہاتھ ہاتھ نہ تھا کہ ٹیم پر
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔