data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250926-01-23

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت نے سکھ یاتریوں کو بابا گرو نانک کے جنم دن کی تقریبات پر پاکستان آنے سے روک دیا، جس پر دنیا بھر کے سکھوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی حکومت کھلم کھلا سکھ برادری کے بنیادی مذہبی حقوق پامال کرنے پر اتر آئی ہے، سکھوں کے مذہبی پیشوا بابا گرو نانک کے جنم دن کے موقع پر پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کے جتھے پر پابندی لگا دی گئی۔
بھارتی وزارت داخلہ کے نوٹس میں پابندی کے لیے سنگین سیکورٹی صورتحال کا بہانہ بنایا گیا ہے۔ دنیا بھر کی سکھ تنظیموں نے بھارت کے دعوے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور اسے بنیادی مذہبی حقوق چھیننے کے مترادف قرار دیا ہے۔ بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کا دہرا معیار ہے، سکھوں کی پاکستان کے ساتھ فلمیں بن سکتی ہیں نہ مذہبی مقامات کی زیارتیں کرنے دی جاتی ہیں، جبکہ بی جے پی حکومت اپنے مالی مفادات کے لیے کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ بھارتی صحافی راجدیپ سردیسائی نے بھی سوال اٹھایا کہ پاکستان سے کرکٹ میچ ہوسکتے ہیں لیکن سکھ مذہبی یاتری پاکستان نہیں جا سکتے؟ سکھ فیڈریشن برطانیہ نے بھی بھارتی حکومت کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔
سکھ یاتری

مانیٹرنگ ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا