اسلام ٹائمز: وزارت انٹیلیجنس نے صیہونی ریاست کے جوہری سائنسدانوں، محقیقن اور ماہرین کی فہرست جاری کی ہے۔ اس فہرست میں انسانی تباہی یعنی ایٹمی ہتھیاروں کے ایسے منصوبوں اور ان پر کام کرنیوالے امریکی اور یورپی سائنسدانوں کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ صہیونی حکومت انتہائی خفیہ رازوں کی تفصیلات نشر کیے جانے کیساتھ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حساس ترین رازوں کا حصول دراصل صیہونی حکومت کے اسٹریٹجک مراکز میں دراندازی کا نتیجہ ہے۔ خصوصی رپورٹ:

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت انٹیلی جنس نے پہلی بار بیرون ملک کامیاب آپریشنز اور مقبوضہ فلسطین کے اندر سے خفیہ ذرائع سے حاصل کی گئی حساس معلومات کی تصاویر جاری کی ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی دستاویزی فلم "مکڑی کی جالا"، امام زمانہ علیہ السلام کے گمنام سپاہیوں، یعنی ایرانی انٹیلی جنس کی ایلیٹ فورسز کے بارے میں ایک داستان ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح صیہونی حکومت کے ڈیٹا بیس تک مکمل رسائی حاصل کی جا چکی ہے۔

ایرانی وزارت انٹیلیجنس نے صیہونی ریاست کے جوہری سائنسدانوں، محقیقن اور ماہرین کی فہرست جاری کی ہے۔ اس فہرست میں انسانی تباہی یعنی ایٹمی ہتھیاروں کے منصوبوں اور ان پر کام کرنیوالے امریکی اور یورپی سائنسدانوں کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ صہیونی حکومت کی انتہائی خفیہ رازوں کی تفصیلات نشر کیے جانے کیساتھ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حساس ترین رازوں کا حصول دراصل صیہونی حکومت کے اسٹریٹجک مراکز میں دراندازی کا نتیجہ ہے۔

وزیر اطلاعات حجت الاسلام خطیب نے ایک دستاویزی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں صیہونی حکومت کی کاونٹر اٹیلی جنس ناکامی کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں، حقیقت یہ ہے کہ امام زمانہ (ع) کے گمنام سپاہی ایک پیچیدہ اور جدید آپریشن کے دوران صیہونی حکومت کے حساس اڈوں میں دراندازی کرنے میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔

حساس معلومات کی تفصیل:
- صیہونی حکومت کے 189 جوہری اور فوجی ماہرین کے نام، تفصیلات، پتے اور کام کی نوعیت، ان کے تعلقات سمیت مکمل معلومات دریافت ہو چکی ہیں۔ اس فہرست پر کام ابھی جاری ہے۔
- ایک سے زیادہ صورتوں میں محفوظ رہنے والے ایسے حساس عسکری مقامات کی مکمل تفصیلات بھی موجود ہیں، جن میں سے کچھ کو 12 روزہ جنگ میں ایرانی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
- ان اڈوں سے دستاویزات کی کامیاب منتقلی، جن کی پہلے ہی پیش گوئی کی گئی تھی، ایک مستند انٹیلی جنس اور آپریشنل اقدامات کے امتزاج کا صرف ایک حصہ ہے۔
- یہ صیہونی خفیہ ایٹمی نظام اور اس کے پشت پناہوں کے منصوبوں کی ناکام رازداری کی تاریخ کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے اور اب صیہونی حکومت کی جوہری پروگرام اور تنصیبات کے متعلق کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔ اسرائیلی طاقت اور خفیہ پن کا جادو خاک میں ملا دیا گیا ہے۔
- ایران منتقل کیے جانے والے انٹیلیجنس انفارمیشن کے خزانے میں صہیونی حکومت سے متعلق متنوع اور قیمتی معلومات پر مشتمل یہ خفیہ ڈاکومنٹس لاکھوں صفحات پر مبنی ہیں۔
- ان دستاویزات میں مقبوضہ علاقوں پر قابض صیہونی رجیم کے سابقہ اور جاری عسکری منصوبوں، پرانے جوہری ہتھیاروں کی بحالی اور دوبارہ پروسیسنگ کے منصوبے، امریکہ اور کچھ یورپی ممالک کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ساتھ ساتھ انتظامی ڈھانچے اور جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں کام کرنیوالے افراد کے بارے میں مکمل معلومات شامل ہیں۔
- ان دستاویزات میں انسانیت دشمن ہتھیاروں کے منصوبوں کے محققین، سائنسدانوں، ماہرین اور میجمنٹ کی ایک فہرست بھی شامل ہے، جس میں متعلقہ منصوبوں پر امریکی اور یورپی کمپنیوں کی تفصیلات اور سائنسدانوں اور ان کے تمام معاونین کے پتے بھی شامل ہیں۔

حساس معلومات تک رسائی کے ذرائع:
اتنی بڑی تعداد میں دستاویزات کے حصول اور ایران منتقلی میں صیہونی حکومت کے ایٹمی پروگرام سے منسلک افراد، عسکری اداروں کے اہلکاروں اور عام اسرائیلی شہریوں نے ایران کی وزارت انٹیلی جنس کے ساتھ تعاون کیا اور رازداری و سیکورٹی کی پیچیدہ پرتوں اور دبیز پردوں کے پیچھے اور نیچے مخفی ان رازوں تک رسائی کو ممکن بنایا۔

اسرائیلی اہلکاروں اور شہریوں کی طرف سے ایرانی انٹیلیجنس سے تعاون کی وجوہات:
اس تعاون کے دو اہم محرکات تھے:
پہلا، مادی فائدہ اور پیسے کا لالچ۔
دوسرا، بدعنوان اور مجرم وزیراعظم کے لئے اسرائیلیوں میں پائی جانیوالی شدید نفرت، جو نتن یاہو کے خلاف انتقام کے طور پر ایران سے تعاون کا باعث بنی۔

ایرانی حکام اور ماہرین کا نتن یاہو کو چیلنج:
- تم ایک بدعنوان شخص ہو، ہمارے ملک میں پانی کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے بہتر ہے کہ اپنے ملازمین کی روزی روٹی کا مسئلہ حل کرو، جو نہیں کر سکتے، اسی لئے اسرائیلیوں نے پیسہ حاصل کرنیکے لالچ میں ہمارے ساتھ تعاون کیا اور یہ تعاون جاری ہے اور رہیگا۔
- صہیونی حکومت کی خلاف عوام اور حکام کیطرف سے دراندازی کی کوششوں میں مدد کے راز کی جڑیں 12 روزہ جنگ میں اسرائیل کی تاریخی شکست اور صیہونی حکومت کی عوام کی حفاظت میں ناکامی اور ان کے نہاں خانوں تک امامؑ زمانہ کے گمنام سپاہیوں کے نفوذ اور رسائی میں مضمر ہیں۔
- نہ صرف ایران کے پاس صیہونی حکومت کے جوہری ہتھیاروں کے ماضی کے بارے میں معلومات ہیں، بلکہ یہ معلومات مستقبل کی ہر پیش رفت کے لیے بھی مفید ہیں۔

واضح رہے کہ ایرانی انٹیلی جنس کی وزارت کی دستاویزی رپورٹ کے ساتھ انٹیلی جنس دراندازی سے حاصل ہونے والی ایسی ویڈیوز اور تصاویر بھی دکھائی گئی ہیں جن کی دنیا کی انٹیلیجنس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ ان میں صہیونی حکومت کے وزیر جنگ کی رہائش گاہ، صیہونی حکومت کا جوہری اڈہ، اور اسرائیل کے جوہری سائنسدانوں کے ساتھ ساتھ رافیل گروسی کی صہیونی حکومت کے عہدیداروں کے ساتھ تصاویر، جن میں گروسی کی وہ نجی تصاویر بھی شامل ہیں جو صہیونی حکومت نے گروسی کو بلیک میل کرنے کے لئے خفیہ طور پر حاصل کر رکھی ہیں۔ گروسی کی جانب سے اسرائیل کیساتھ تعاون کا ایک سبب ان تصاویر کو بھی تصور کیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صیہونی حکومت کے وزارت انٹیلی صہیونی حکومت بھی شامل ہیں ہتھیاروں کے کے بارے میں انٹیلی جنس کی تفصیلات کے جوہری حکومت کی کے گمنام کے ساتھ اور ان گیا ہے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا