آئندہ سیاسی گفتگو نہ کریں، آئی سی سی نے بھارتی کپتان سوریا کمار یادو کو خبردار
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھارتی کپتان سوریا کمار یادو کو خبردار کیا ہے کہ وہ آئندہ سیاسی بیانات دینے سے گریز کریں۔
یہ فیصلہ دبئی میں میچ ریفری رچی رچرڈسن کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے بعد سامنے آیا، فی الحال یہ واضح نہیں کہ سوریا کمار پر مزید کوئی پابندی یا جرمانہ عائد کیا جائے گا یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایشیا کپ، سیاسی بیان کے بعد سوریا کمار یادو مشکل میں، آئی سی سی نے تحقیقات شروع کر دیں
پاکستانی ٹیم مینجمنٹ نے الزام لگایا تھا کہ سوریا کمار نے 14 ستمبر کو ایشیا کپ کے گروپ میچ میں پاکستان کے خلاف کامیابی کے بعد پریس کانفرنس میں سیاسی نوعیت کے ریمارکس دیے، پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ حکام نے گزشتہ ہفتے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران اس شکایت کی تصدیق بھی کی تھی۔
"We stand by the victims of the families of Pahalgam.
– Surya Kumar Yadav ???? pic.twitter.com/YGvA3MIkEY
— Moon (@momo_premi) September 14, 2025
اطلاعات کے مطابق سوریا کمار نے اپنی گفتگو میں آپریشن سندور کا حوالہ دیا تھا، بھارتی کپتان نے اس موقع پر کامیابی کو دہشتگردی کے متاثرین اور بھارتی مسلح افواج کے نام کیا تھا۔
یہ معاملہ اس وقت مزید حساس ہوگیا جب پاکستان نے میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ کے رویے پر بھی باقاعدہ احتجاج درج کرایا، پاکستان کا مؤقف تھا کہ پائی کرافٹ نے بھارت کے خلاف میچ کے دوران ٹاس سے قبل دونوں کپتانوں کو مصافحہ نہ کرنے کا کہا تھا۔ بعدازاں میچ ریفری نے اسے غلط فہمی قرار دیتے ہوئے معافی مانگی۔
یہ بھی پڑھیں: ’اب پاکستان سے کوئی مقابلہ نہیں‘، اعداد و شمار نے بھارتی کپتان سوریا کمار یادو کو غلط ثابت کردیا
اسی دوران بھارت نے بھی آئی سی سی میں پاکستان کے 2 کھلاڑیوں، صاحبزادہ فرحان اور حارث رؤف کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ بھارتی مؤقف ہے کہ دونوں کھلاڑیوں نے سپر فورز کے میچ میں نامناسب اشارے کیے۔ اس شکایت کی سماعت جمعہ کو متوقع ہے۔
صاحبزادہ فرحان نے ایک پریس کانفرنس میں اپنی مشین گن اسٹائل جشن پر وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ عام طور پر ففٹی کے بعد زیادہ جشن نہیں مناتے، تاہم اس دن اچانک یہ خیال آیا اور انہوں نے یہ انداز اپنایا، اس پر لوگوں کا ردعمل جو بھی ہو، انہیں اس کی پروا نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آئی سی سی بھارت پاکستان سوریا کمار یادو سیاسی بیان وارننگ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاکستان سوریا کمار یادو سیاسی بیان وارننگ سوریا کمار یادو بھارتی کپتان کے بعد
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔