ڈی جی آئی ایس پی آر کی جامعہ عرو الوثقی کے علما اور طلبہ کے ساتھ خصوصی نشست
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
ڈی جی آئی ایس پی آر کی جامعہ عرو الوثقی کے علما اور طلبہ کے ساتھ خصوصی نشست WhatsAppFacebookTwitter 0 26 September, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس ) پاک فوج کے ترجمان لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جامعہ عرو الوثقی لاہور کا دورہ کیا جہاں علامہ سید جواد نقوی اور طلبہ و طالبات سے ملاقات کی۔اس موقع پر پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاک فوج کے ملک کے اندرونی امن کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کے مسائل پر نظر رکھے ہوئے ہے، پاکستان کا مستقبل نوجوان ہیں اور ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے ان کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاک فوج نے ہر دور میں ملک کے دفاع کی ذمہ داری پوری کی ہے، انہوں نے آپریشن بنیان مرصوص کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن نے پاکستان کی ساکھ کو مضبوط کیا اور عالمی سطح پر ملک کا وقار بڑھایا ہے۔اس موقع پر جامعہ عرو الوثقی کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے کہا کہ طلبہ کو قومی ذمہ داریوں کا شعور دینا وقت کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل قومی ترقی میں مثر کردار ادا کر سکے۔
طلبہ نے اس موقع پر مختلف مسائل پر سوالات کیے اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے تفصیل سے گفتگو کی اور کہا کہ پاک فوج ملک کے اندرونی امن کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کے مسائل پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے اور قومی یک جہتی کے لیے ہر سطح پر اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔طلبہ نے فوج کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نشست نے ان کے شکوک و شبہات دور کیے ہیں اور وہ منفی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہیں اور انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت کو دیا گیا فیصلہ کن جواب تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا؛ وزیراعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب بھارت کو دیا گیا فیصلہ کن جواب تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا؛ وزیراعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب سی ڈی اے کا کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کی اپ گریڈیشن کا فیصلہ تمام یرغمالی رہا کرو تو زندہ رہو گے ورنہ مار دیئے جاو گے، نیتن یاہو کی حماس کو دھمکی آئی سی سی میں پیشی؛ سوریا کمار اور حارث ر ئوف پر جرمانہ،صاحبزادہ فرحان کو وارننگ جاری ایمان مزاری کا جسٹس ڈوگر کیخلاف درخواست پر عدم کارروائی پر شکایتی خط جن کی اپنی کارکردگی بتانے لائق نہ ہو وہ دوسروں کے کاموں میں کیڑے نکالتے ہیں، عظمی بخاری کا شرجیل میمن کو جوابCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈی جی آئی ایس پی آر جامعہ عرو الوثقی کے ساتھ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔