آڈٹ رپورٹ درست ، ایس ای سی پی اعتراضات بے جا ہیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد کامرس ڈیسک)آڈیٹر جنرل پاکستان کے ذرائع نے آڈٹ رپورٹ پر سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین عاکف سعید کے اعتراضات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کی رپورٹ غلط ہے تو پھر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کس بات کی چھان بین کر رہی ہیں۔آڈیٹر جنرل نے حالیہ رپورٹ میں 26 کروڑ 70 لاکھ روپے کی غیر قانونی ادائیگیوں کی نشاندہی کی جنہیں ایس ای سی پی کے چیئرمین نے قانونی قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق ایس ای سی پی نے 14 ارب روپے کا سرپلس وفاقی خزانے میں جمع نہیں کرایا جو مالیاتی نظم کی سنگین خلاف ورزی ہے، تاہم اس پر ایس ای سی پی نے مکمل خاموشی اختیار کی۔ذرائع کے مطابق اگر ایس ای سی پی کے اعتراضات درست ہوتے تو وہ محض میڈیا پر بیانات نہ دیتے بلکہ دیگر اقدامات بھی کرتے۔ آڈیٹر جنرل کے حکام نے کہا کہ یہ معاملہ اب متعلقہ اداروں کے دائرہ اختیار میں ہے ہم نے اپنا کام مکمل کر لیا اور ہمیں وضاحتیں دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جب ایک ریگولیٹری ادارہ اپنی ہی آڈٹ رپورٹ کو مسترد کرتا ہے تو اس سے نہ صرف احتساب کا نظام کمزور ہوتا ہے بلکہ ادارہ جاتی ساکھ پر بھی سوال اٹھتا ہے۔ اس سکینڈل کے بعد ایس ای سی پی کے اختیارات محدود کرنے اور تنخواہوں و مراعات کا فیصلہ حکومت کی براہ راست منظوری سے مشروط کیا جا رہا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق یہ معلوم کیا جائے کہ ایس ای سی پی چیئرمین کا ردِعمل ادارہ جاتی مفاد میں ہے یا ذاتی تحفظ کے لیے۔ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسے تنازعات سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دباؤ میں ہے اور شفافیت پر سوال اٹھنے سے آئی ایم ایف اور دیگر قرض دہندگان کے ساتھ مذاکرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایس ای سی پی
پڑھیں:
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
پاکستان میں مختلف اقسام کے ایندھن کی فروخت کا ماہانہ ڈیٹا جاری(mothly data) کردیا گیا۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 23 اور ماہانہ 14 فیصد کمی آئی۔
اعداد وشمار کے مطابق مئی 2026 میں11لاکھ 72ہزارٹن پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی گئیں، مئی میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ 23اورماہانہ14فیصد کمی آئی۔
مئی میں آئل ریفائنریز کی پیداوارمیں بھی 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، سب سےبڑی کمی فرنس آئل کی فروخت میں سالانہ 64اورماہانہ 79فیصد آئی، فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیادپر80ہزارٹن سےگرکر29ہزارٹن پرآگئی۔
مئی میں سالانہ بنیاد پرڈیزل کی فروخت 32 فیصد کم ہوکر4لاکھ 55 ہزار ٹن جبکہ سالانہ بنیاد پرپیٹرول کی فروخت 12فیصد کم ہوکر6لاکھ 17ہزار ٹن رہی۔
مزید پڑھیں:حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
مئی میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی فروخت میں 19اوراٹک پیٹرولیم میں 30فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ وافی انرجی کی فروخت 16فیصداورحیسکول پیٹرولیم کی فروخت میں37 فیصد کمی آئی۔