نوابشاہ ، اشیا خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نوابشاہ(نمائندہ جسارت) ملک کی طرح نوابشاہ میں بھی میں آٹا، گھی اور چینی سمیت اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور عام گھرانے روزمرہ اخراجات پورے کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں 40 کلو آٹے کا تھیلہ 3,943 روپے تک جا پہنچا ہے جو گزشتہ ڈیڑھ سال کی بلند ترین سطح ہے۔ چینی کی قیمت میں بھی ایک ہفتے کے دوران فی کلو 18 روپے کا اضافہ ہوا ہے جبکہ خالص گھی 560 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تندور مالکان نے روٹی کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا ہے، جس سے غریب اور متوسط طبقہ مزید دباؤ میں آ گیا ہے۔ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس تیز رفتاری سے اضافے کی بنیادی وجوہات میں زرعی پیداوار میں کمی، روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات اور ذخیرہ اندوزی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی ناقص حکمت عملی اور مؤثر نگرانی کے فقدان نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس طوفان نے ان کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ ایک شہری نے شکوہ کیا کہ “اب گھر کا بجٹ بنانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے، مہینے کی تنخوا صرف چند دنوں میں ختم ہو جاتی ہے۔”دوسری طرف تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے تو معاشرتی بے چینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ عوام اب حکومت سے صرف بیانات نہیں بلکہ عملی ریلیف چاہتے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔