کراچی یونیورسٹی نے جسٹس طارق جہانگیری کی قانون کی ڈگری منسوخ، 3 برس کی پابندی عائد کر دی
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
کراچی+ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) جامعہ کراچی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ڈگری منسوخ کرتے ہوئے ان پر 3 سال کی پابندی عائد کر دی۔ اعلامیے کے مطابق طارق محمود ولد قاضی محمد اکرم کا ایل ایل بی کا نتیجہ اور ڈگری منسوخ کر دی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ طالبعلم پر غیر منصفانہ ذرائع استعمال کرنے پر 3 سال کی پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طالب علم کو کسی بھی یونیورسٹی یا کالج میں داخلہ اور امتحانات دینے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق طارق محمود کبھی اسلامیہ لاء کالج کراچی کے باقاعدہ طالبعلم نہیں تھے۔ دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ آئینی بنچ کے سربراہ جسٹس کے کے آغا نے فیصلہ تحریر کیا جس میں کہا گیا کہ درخواست گزار وکلاء نے قابل سماعت ہونے پر دلائل دینے سے انکار کیا اور کمرہ عدالت چھوڑ کر چلے گئے۔ درخواست گزاروں کا رویہ واضح طور پر عدم دلچسپی ظاہر کرتا ہے۔ لہٰذا ساتوں درخواستیں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کی جاتی ہیں۔ فیصلے کے مطابق جسٹس طارق محمود جہانگیری نے عدالت کی اجازت سے باوقار انداز میں بات کی تاہم درخواست کے کسی نکتے پر بحث نہیں کی اور بعدازاں کمرہ عدالت سے چلے گئے۔ ان کی فریق بننے کی درخواست بھی عدم پیروی پر خارج کردی گئی۔ جسٹس کے کے آغا نے مشاہدہ کیا کہ وکلاء نے دوران سماعت عدالتی وقار کو مجروح کیا، نعرے بازی کی اور عدالتی کارروائی کو دانستہ متاثر کیا جو کہ سینئر وکلاء کے شایان شان رویہ نہیں۔ عدالت نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے وکلاء کے خلاف کوئی نوٹس جاری نہیں کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی کارروائی کو وکلاء کی خواہش کے سامنے یرغمال نہیں بنایا جا سکتا، کارروائی کس طرح چلانی ہے یہ عدالت کا اختیار ہے۔ ساتھ ہی رجسٹرار کو ہدایت دی گئی کہ سماعت کے دوران اندر اور باہر کی سی سی ٹی وی و آڈیو ریکارڈنگ فوری طور پر محفوظ کی جائیں۔ اُدھر جوڈیشل ورک سے روکنے کے کیس میں جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ایڈووکیٹ منیر اے ملک کو وکیل مقرر کیا ہے۔ جسٹس طارق جہانگیری نے سپریم کورٹ میں ذاتی حیثیت سے درخواست دائر کی تھی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5رکنی آئینی بینچ 29ستمبر کو جسٹس طارق محمود جہانگیری کی درخواست پر سماعت کرے گا۔ آئینی بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جسٹس طارق محمود جہانگیری جہانگیری کی
پڑھیں:
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔