کراچی+ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) جامعہ کراچی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ڈگری منسوخ کرتے ہوئے ان پر 3 سال کی پابندی عائد کر دی۔ اعلامیے کے مطابق طارق محمود ولد قاضی محمد اکرم کا ایل ایل بی کا نتیجہ اور ڈگری منسوخ کر دی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ طالبعلم پر غیر منصفانہ ذرائع استعمال کرنے پر 3 سال کی پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طالب علم کو کسی بھی یونیورسٹی یا کالج میں داخلہ اور امتحانات دینے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق طارق محمود کبھی اسلامیہ لاء کالج کراچی کے باقاعدہ طالبعلم نہیں تھے۔ دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ آئینی بنچ کے سربراہ جسٹس کے کے آغا نے فیصلہ تحریر کیا جس میں کہا گیا کہ درخواست گزار وکلاء نے قابل سماعت ہونے پر دلائل دینے سے انکار کیا اور کمرہ عدالت چھوڑ کر چلے گئے۔ درخواست گزاروں کا رویہ واضح طور پر عدم دلچسپی ظاہر کرتا ہے۔ لہٰذا ساتوں درخواستیں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کی جاتی ہیں۔ فیصلے کے مطابق جسٹس طارق محمود جہانگیری نے عدالت کی اجازت سے باوقار انداز میں بات کی تاہم درخواست کے کسی نکتے پر بحث نہیں کی اور بعدازاں کمرہ عدالت سے چلے گئے۔ ان کی فریق بننے کی درخواست بھی عدم پیروی پر خارج کردی گئی۔ جسٹس کے کے آغا نے مشاہدہ کیا کہ وکلاء نے دوران سماعت عدالتی وقار کو مجروح کیا، نعرے بازی کی اور عدالتی کارروائی کو دانستہ متاثر کیا جو کہ سینئر وکلاء کے شایان شان رویہ نہیں۔ عدالت نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے وکلاء کے خلاف کوئی نوٹس جاری نہیں کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی کارروائی کو وکلاء کی خواہش کے سامنے یرغمال نہیں بنایا جا سکتا، کارروائی کس طرح چلانی ہے یہ عدالت کا اختیار ہے۔ ساتھ ہی رجسٹرار کو ہدایت دی گئی کہ سماعت کے دوران اندر اور باہر کی سی سی ٹی وی و آڈیو ریکارڈنگ فوری طور پر محفوظ کی جائیں۔ اُدھر جوڈیشل ورک سے روکنے کے کیس میں جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ایڈووکیٹ منیر اے ملک کو وکیل مقرر کیا ہے۔ جسٹس طارق جہانگیری نے سپریم کورٹ میں ذاتی حیثیت سے درخواست دائر کی تھی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5رکنی آئینی بینچ 29ستمبر کو جسٹس طارق محمود جہانگیری کی درخواست پر سماعت کرے گا۔ آئینی بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: جسٹس طارق محمود جہانگیری جہانگیری کی

پڑھیں:

وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائےگا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔

واضح رہے کہ قبل ازیں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، تاہم آج قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ 5 جون کو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔

قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تاہم طارق فضل چوہدری نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews تاریخ کا اعلان طارق فضل چوہدری وفاقی بجٹ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا